بزنس مین پروگریسو پینل (بی این پی پی) اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے رہنماؤں نے کراچی پریس کلب میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے حکومت سے آئندہ بجٹ میں ٹیکسیشن کے نظام کو سہل بنانے اور تاجر دوست اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر فیاض مگوں نے کہا کہ بجٹ میں 15 ہزار 200 ارب روپے کا ٹیکس ہدف غیر حقیقی ہے، جسے آئی ایم ایف کے بجائے اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے طے کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مینوفیکچرنگ سیکٹر سے سپر ٹیکس ختم کیا جائے، فکس ٹیکس رجیم بحال کی جائے اور پیچیدہ ٹیکس ریٹرن فارم کو ایک صفحے کا سادہ اور آسان بنایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ صنعتی خام مال بالخصوص کیمیکل انڈسٹری پر ڈیوٹی کم کر کے ایکسپورٹ بڑھائی جائے کیونکہ اس کے بغیر آئی ایم ایف پروگرام سے نکلنا ممکن نہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ کیش اکنامی کی حوصلہ شکنی کر کے ڈیجیٹل پیمنٹ پر مراعات دی جائیں اور ملک بھر کے 30 لاکھ چھوٹے تاجروں کے لیے آسان نظام بنا کر انہیں ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ اس کے علاوہ انہوں نے فاٹا اور پاٹا کے لیے مخصوص مراعات کے غلط استعمال کو روکنے اور وہاں آبادی کے لحاظ سے چھوٹ دینے پر زور دیا۔
ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر امان اللہ پراچہ نے نیوز کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر اپنا کام خود کرے اور تاجروں کو ودہولڈنگ ٹیکس کلیکٹر ایجنٹ نہ بنایا جائے کیونکہ غلط اسٹیج پر ٹیکس وصولی سے مالی بوجھ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجٹ میں ایس ایم ایز سیکٹر کے لیے خصوصی مراعاتی پیکج لایا جائے اور ماہانہ ایک لاکھ جبکہ سالانہ 12 لاکھ روپے تک کی آمدنی کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔
نائب صدر ایف پی سی سی آئی آصف سخی نے کہا کہ اگر حکومت ملکی معاشی نمو چاہتی ہے تو اسے کاروبار کرنا اور صنعتیں لگانا آسان بنانا ہوگا، کیونکہ اس وقت ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو لوگ پہلے سے ٹیکس نیٹ میں رجسٹرڈ ہیں، صرف انہیں ہی مزید نچوڑا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے دو رکنی وفد نے بنگلہ دیش کا دورہ مکمل کر لیا ہے۔ آئی سی سی کے مطابق وفد میں ڈاکٹر محمد اے ایس موساجی اور تاوینگوا موکھولانی شامل تھے جنہوں نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے مختلف اسٹیک ہولڈرز سے ملاقاتیں کیں۔ وفد اپنی رپورٹ آئی سی سی بورڈ کو پیش کرے گا۔ آئی سی سی نے واضح کیا ہے کہ اس دورے کے حوالے سے میڈیا پر سامنے آنے والی دیگر رپورٹس اور دعوے درست نہیں ہیں۔