جہاں ایک طرف پاکستان کے مایہ ناز کرکٹرز نے آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے بنائی گئی پچوں کے معیار پر سوالات اٹھائے ہیں وہیں پاکستان کے ون ڈے کپتان شاہین شاہ آفریدی کا کہنا ہے کہ میچ جیتنا اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ اگلے سال جنوبی افریقا، زمبابوے اور نمیبیا میں ہونے والے آئی سی سی ورلڈ کپ کے لیے ایک متوازن اسکواڈ تیار کرنا۔
پاکستانی کپتان نے آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے تیار کی گئی اسپن کے لیے سازگار پچوں کا دفاع کیا یہ سیریز جمعرات کی رات کو ختم ہوئی جس میں میزبان ٹیم نے ایک ٹرننگ پچ پر کم اسکور والے کانٹے دار مقابلے میں چار وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔
پاکستان نے یہ سیریز 1-2 سے جیتی اور شاہین نے کہا کہ ان کا بنیادی ہدف سیریز جیتنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ کے لیے ابھی کافی وقت ہے لیکن پاکستان کرکٹ کو اپنی ساکھ کو مضبوط کرنے کے لیے فتوحات کی بھی ضرورت ہے۔شاہین نے کہا کہ دوطرفہ سیریز میں ہوم ٹیموں کو ہمیشہ ایسی پچیں تیار کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے جو ان کے لیے سازگار ہوں۔
تینوں میچوں میں اسپنرز کا دبدبہ رہا، اور آسٹریلیا کے قائم مقام کپتان جوش انگلس کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ان حالات سے زیادہ مشکل حالات کا سامنا نہیں کر سکتا جو انہیں اس ون ڈے سیریز میں ملے۔
پاکستان کے وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور قومی سلیکٹرز ورلڈ کپ سے قبل اختیار کی جانے والی حکمتِ عملی اور سمت کی وجہ سے مسلسل تنقید کی زد میں ہیں۔ناقدین نے سوال اٹھایا کہ ایسی سست اور ٹرننگ پچیں تیار کرنے کا کیا مقصد ہے جبکہ ورلڈ کپ بالکل مختلف حالات میں کھیلا جائے گا۔
پاکستان کے سابق کپتان راشد لطیف نے واضح کیا کہ پاکستان جو کچھ کرنا چاہتا ہے اس میں کوئی منصوبہ بندی یا سمت نظر نہیں آتی کیونکہ طویل مدت میں اس سیریز کی جیت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
ایک اور سابق کپتان معین خان نے اِس بات کی نشاندہی کی کہ ایسی پچوں پر نہ صرف آسٹریلوی بلکہ پاکستانی بیٹرز کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ معین خان نے کہا جب آپ نوجوان کھلاڑیوں کو آزما رہے ہوں تو انہیں ایسی مشکل پچوں پر موقع دینا ناانصافی ہے۔
پاکستان کے سابق ٹیسٹ اسپنر توصیف احمد نے کہا کہ کوئی ایسی پچوں پر ہمارے اسپنرز یا بیٹرز کے معیار کا فیصلہ کیسے کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا وائٹ بال کرکٹ میں اس بات پر زور ہونا چاہیے کہ ہمارے بولرز کو موثر بنایا جائے اور ہمارے بیٹرز بیٹنگ کے لیے سازگار پچوں پر تیزی سے اور بڑا اسکور کرنے کے قابل ہوں جو کہ عام طور پر ان دنوں وائٹ بال کرکٹ میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔
سابق وکٹ کیپر بلے باز کامران اکمل نے کہا کہ نئے کھلاڑیوں کو آزمانا اچھی بات ہے لیکن اس کے پیچھے کوئی مقصد اور منصوبہ بندی ہونی چاہیے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا سب جانتے ہیں کہ فخر زمان، صاحبزادہ فرحان اور صائم ایوب وائٹ بال کرکٹ میں آپ کے بہترین اوپنرز ہیں اور ہمیں محض تجربات کرنے کے بجائے اپنے کمبینیشن کے بارے میں واضح ہونا چاہیے۔