امسال ملک بھر کی مویشی منڈیوں میں 34 ارب روپے کا ڈیجیٹل لین دین ہوا، اسٹیٹ بینک

image

عید الاضحیٰ کے موقع پر جانوروں کی خرید و فروخت میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے رجحان میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے تحت مویشیوں کی خریداری کے لیے ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کے حجم میں ایک سال کے دوران 650 فیصد جبکہ ٹرانزیکشنز کی تعداد میں 550 فیصد کا ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق، اس نمایاں کامیابی کی وجہ مرکزی بینک کی ’’گو کیش لیس‘‘ مہم کے مثبت اثرات ہیں۔

مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس سال ملک بھر کی مویشی منڈیوں میں 34 ارب روپے کا ڈیجیٹل لین دین ہوا، جبکہ گزشتہ سال یہ حجم صرف 4.6 ارب روپے تھا۔ اسی طرح گزشتہ برس ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کی تعداد 65 ہزار رہی تھی، جو اس سال بڑھ کر 4 لاکھ 81 ہزار تک پہنچ گئی۔ اس ڈیجیٹل مہم کے دوران مویشیوں کے بیوپاریوں اور خریداروں کے لیے تقریباً 12 ہزار 500 نئے بینک اکاؤنٹس بھی کھولے گئے، جبکہ ملک بھر میں اس نیٹ ورک کو وسعت دیتے ہوئے منڈیوں کی تعداد گزشتہ برس کی 54 سے بڑھا کر اس سال 123 کردی گئی۔

اس مہم کی کامیابی کے لیے 22 شریک بینکوں نے مویشی منڈیوں میں ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کے لیے خصوصی کیمپ اور کیبن قائم کیے۔ بینکوں نے مویشی بیچنے والوں، ٹرانسپورٹرز اور دیگر منسلک خدمات فراہم کرنے والوں کو فوری بائیومیٹرک توثیق کے ذریعے آن بورڈ لیا۔ اس کے علاوہ، منتخب مویشی منڈیوں میں خریداروں اور بیوپاریوں کی سہولت کے لیے اے ٹی ایم، کیش کاؤنٹرز اور کیش ڈپازٹ مشینوں سے لیس خصوصی گاڑیاں بھی تعینات کی گئی تھیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US