چیئرمین پاک یو اے ای بزنس کونسل دیوان فخرالدین نے بجٹ میں سولر پینلز پر ٹیکس میں اضافے کو عوام کے لیے اضافی بوجھ قرار دیتے ہوئے حکومت سے اس فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
دیوان فخرالدین نے کہا کہ حکومت کو سولر توانائی کی حوصلہ شکنی کے بجائے اسے فروغ دینا چاہیے کیونکہ موجودہ معاشی حالات اور مہنگائی کے دور میں عوام مزید مالی دباؤ برداشت نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ سولر پینلز پر ٹیکس میں اضافہ قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے برعکس اقدام ہے جو ملک میں توانائی کے بحران کے حل کی کوششوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بجٹ کو عوام دوست بنایا جانا چاہیے اور نئے ٹیکس لگانے کے بجائے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔
دیوان فخرالدین نے مزید کہا کہ بجلی کے بحران کے پیش نظر سولر انرجی کو فروغ دینا حکومت کی ذمہ داری ہے جبکہ اس پر ٹیکس بڑھانا عوام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ سولر پینلز پر عائد اضافی ٹیکس فوری طور پر واپس لیا جائے اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبے کو سہولت دی جائے تاکہ عوام کو سستی اور متبادل توانائی میسر آ سکے۔