"میں بیٹا ہوں، مجھے آج بھی نہیں معلوم کہ میرے والدین کے درمیان اصل مسئلہ کیا تھا۔ جو کچھ ہوا وہ ایک بہت بڑا سانحہ ہے۔ میں نے اپنے والد پر مقدمہ نہیں کیا کیونکہ وہ میرے والد ہیں اور ان کا احترام کرنا میری ذمہ داری ہے۔ تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میں اس جرم کو درست سمجھتا ہوں میں ان کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔ قتل ایک سنگین جرم ہے اور قانون اپنا راستہ خود اختیار کرے گا۔ میں اس مقدمے کا فریق نہیں ہوں۔ میں عوام سے درخواست کرتا ہوں کہ ہماری فیملی کو تنہا چھوڑ دیں کیونکہ ہم ایک انتہائی مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔ میری والدہ کے پاس کسی قسم کی جائیداد ہونے کی خبریں بھی غلط ہیں، براہِ کرم جھوٹی معلومات پھیلانے سے گریز کریں۔"
کراچی میں پیش آنے والے دل دہلا دینے والے واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا، جہاں 70 سالہ اصغر علی پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی 58 سالہ اہلیہ کو گھریلو جھگڑے کے دوران قتل کر دیا۔ واقعے کے بعد ملزم خود ہی پولیس اسٹیشن پہنچ گیا اور جرم کی اطلاع دی، جس کے بعد یہ افسوسناک واقعہ خبروں کی زینت بن گیا۔
اب اس المناک سانحے پر مقتولہ کے بڑے بیٹے ذیشان نے پہلی بار کھل کر بات کی ہے۔ ذیشان کے مطابق انہیں اپنی والدہ کی موت کی خبر پولیس کی جانب سے اس وقت ملی جب وہ اندرون سندھ میں ایک فیکٹری میں کام کر رہے تھے۔ ابتدا میں انہیں یقین نہیں آیا اور انہوں نے پڑوسیوں سے رابطہ کرکے خبر کی تصدیق کی۔ حقیقت جاننے کے بعد وہ فوری طور پر کراچی واپس روانہ ہوگئے۔ ان کے بھائی کو بھی اسی طرح اس افسوسناک واقعے کا علم ہوا، کیونکہ وہ بھی ایک دوسری فیکٹری میں ملازمت کر رہا تھا۔
ذیشان نے بتایا کہ ان کے والد کا مزاج ہمیشہ سے جھگڑالو اور تنازعات کا شکار رہا، تاہم ایک بیٹے کے طور پر انہیں کبھی مکمل طور پر معلوم نہیں ہو سکا کہ والدین کے درمیان اصل اختلافات کیا تھے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ان کا خاندان شدید صدمے اور ذہنی اذیت سے گزر رہا ہے اور انہیں سکون اور رازداری کی ضرورت ہے۔
سوشل میڈیا پر اس کیس کے حوالے سے مختلف دعوے بھی گردش کر رہے ہیں، جن میں مقتولہ کے نام جائیداد ہونے کی باتیں شامل ہیں۔ تاہم ذیشان نے ان خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی والدہ کے پاس کوئی ایسی جائیداد نہیں تھی اور عوام کو غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کرنا چاہیے۔
یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندان کی زندگی بدل گیا بلکہ اس نے گھریلو تشدد، بزرگ جوڑوں کے مسائل اور معاشرتی رویوں پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ دوسری جانب قانونی کارروائی جاری ہے اور حکام واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔