پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ حکام اس ویک اینڈ پر ایک اہم اجلاس منعقد کرنے جا رہے ہیں جس میں قومی ٹیسٹ اسکواڈ کے کپتان اور ہیڈ کوچ کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔
بورڈ کے بااعتماد ذرائع کے مطابق چیئرمین محسن نقوی اس اجلاس کی صدارت کریں گے جس میں قومی کرکٹ سیٹ اپ سے متعلق متعدد فیصلے کیے جائیں گے۔
ذرائع نے انکشاف کیا کہ ”سب سے اہم فیصلہ اس بارے میں ہے کہ کیا شان مسعود ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے دوروں کے لیے بطور ٹیسٹ کپتان برقرار رہیں گے یا نہیں۔ کیونکہ کثیر تعداد میں سلیکٹرز اور بورڈ کے کچھ عہدیداروں کا ماننا ہے کہ اب سلمان علی آغا کو ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کا موقع دینے کا وقت آ گیا ہے۔“
انہوں نے بتایا کہ شان مسعود، جنہوں نے دسمبر 2023 سے اب تک 16 ٹیسٹ میچوں میں قیادت کی ہے، خود ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ میں ٹیم کی قیادت کرنے کے خواہشمند ہیں، لیکن حال ہی میں بنگلہ دیش میں ہونے والی دو صفر کی شکست ان کے خلاف گئی ہے۔ سلمان علی آغا پہلے ہی قومی ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کے کپتان ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جہاں تک ہیڈ کوچ سرفراز احمد کا تعلق ہے، بورڈ سابق ٹیسٹ کپتان یونس خان کے ساتھ معاملات کو حتمی شکل نہیں دے سکا ہے، جنہیں ٹیسٹ ہیڈ کوچ کا عہدہ سنبھالنے کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ”فی الوقت ایسا لگتا ہے کہ سرفراز احمد اس وقت تک برقرار رہیں گے جب تک یونس خان کے ساتھ کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا، جو بورڈ میں کوئی بھی عہدہ سنبھالنے کے معاملے میں ہمیشہ سخت مذاکرات کار ثابت ہوئے ہیں۔“
انہوں نے کہا کہ اجلاس میں کرکٹ مینجمنٹ سیٹ اپ میں کچھ دیگر تبدیلیوں پر بھی بحث کی جائے گی اور ان کی منظوری دی جائے گی، جس میں ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ کا تقرر بھی شامل ہے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ سابق ٹیسٹ کپتان محمد حفیظ بھی امیدواروں میں شامل تھے اور بورڈ حکام نے یونس خان اور محمد حفیظ دونوں کے ساتھ بات چیت کی ہے، لیکن ابھی تک کچھ بھی حتمی نہیں ہوا ہے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ ”صورتحال ہفتے تک واضح ہو جائے گی جب یہ اجلاس شیڈول ہے، لیکن بظاہر محسن نقوی تبدیلیاں چاہتے ہیں کیونکہ وہ پاکستان کرکٹ کی مجموعی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔“
اس وقت مصباح الحق، اسد شفیق، سرفراز احمد اور عاقب جاوید قومی سلیکٹرز ہیں، جبکہ وائٹ بال کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن بھی سلیکشن کے معاملات میں شامل ہیں۔
سلیکشن کمیٹی کے تقریباً تمام ارکان بورڈ میں دوہرے عہدوں پر فائز ہیں اور ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین افراد پر بوجھ کم کرنے کے لیے مختلف لوگوں کو الگ الگ ذمہ داریاں سونپنا چاہتے ہیں۔