ایف آئی ایچ پرو لیگ اور ورلڈ کپ سے قبل پاکستان ہاکی میں انتظامی فیصلوں پر ابہام

image

ایف آئی ایچ پرو لیگ ٹورنامنٹ اور ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی شرکت کے موقع پر پاکستان ہاکی میں غیر معمولی صورتحال سامنے آ رہی ہے جبکہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی عبوری انتظامیہ تاحال ان دونوں بڑے ایونٹس کے لیے ٹیم کے ہمراہ جانے والے مینجمنٹ اور سپورٹ اسٹاف کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر سکی ہے۔

حال ہی میں ایک حیران کن اقدام کے تحت پی ایچ ایف نے مظہر عباس کو گول کیپنگ کوچ کے عہدے سے اور ذیشان اشرف کو سپورٹ اسٹاف سے ہٹا دیا، اور یہ اعلان کیا کہ سابق انٹرنیشنل کھلاڑی وسیم احمد آسٹریلیا سے یورپ میں اسکواڈ کو جوائن کریں گے جہاں وہ اس وقت مقیم ہیں۔

سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ چونکہ پی ایچ ایف نے شاید پہلی بار کھلاڑیوں اور سپورٹ اسٹاف کو روزانہ کے الاؤنسز پیشگی ادا کیے تھے اس لیے اب انہوں نے مظہر اور ذیشان سے کہا ہے کہ وہ روزانہ الاؤنس کی مد میں ان کے بینک اکاؤنٹ میں بھیجی گئی رقم واپس کریں۔

پی ایچ ایف ان دو ایونٹس کے لیے غیر ملکی ہیڈ کوچ مقرر کرنے کے فیصلے پر پہلے ہی یو ٹرن لے چکی ہے اور آخر کار 74 سالہ سابق پاکستانی مایہ ناز کھلاڑی منظور الحسن کے نام پر اتفاق کیا ہے۔

منظور الحسن بطور ہیڈ کوچ ٹیم کے ساتھ جائیں گے جبکہ خواجہ جنید مینیجر ہوں گے اور کوچز کی ایک بڑی تعداد ان کی معاونت کرے گی۔فیڈریشن اور اس کے سلیکٹرز کی جانب سے شکیل عماد بٹ کو ایف آئی ایچ پرو لیگ اور ایف آئی ایچ ورلڈ کپ کے لیے کپتان نامزد نہ کرنے پر پاکستان ہاکی کیمپ میں پہلے ہی بے چینی بڑھ رہی ہے۔

کیمپ کے اندرونی ذرائع کے مطابق زیادہ تر کھلاڑی چاہتے ہیں کہ شکیل کو دونوں ایونٹس کے لیے کپتان نامزد کیا جائے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ وہ سب سے بہترین انتخاب ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں پی ایچ ایف کے سلیکٹرز نے شکیل کو ایف آئی ایچ پرو لیگ کے لیے کپتان مقرر کیا ہے وہیں انہوں نے ورلڈ کپ کے لیے انہیں کپتان نامزد کرنے سے گریز کیا ہے اور اس بات پر اصرار کیا ہے کہ پرو لیگ کے بعد ان کی فٹنس اور فارم کا جائزہ لیا جائے گا۔

پاکستان کو 13 سے 28 جون تک بیلجیم اور انگلینڈ میں ہونے والی ایف آئی ایچ پرو لیگ میں روایتی حریف بھارت، بیلجیم، اسپین اور انگلینڈ کے خلاف کھیلنا ہے۔ پرو لیگ ایونٹ کے بعد پاکستانی اسکواڈ کو اگست میں بیلجیم اور نیدرلینڈز میں ہونے والے ورلڈ کپ کے مین راؤنڈز میں بھی حصہ لینا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US