فیفا ورلڈ کپ کا کل سے میکسیکو میں آغاز، لیاری اور ملیر میں جشن

image

پاکستان کے لیے فیفا ورلڈ کپ میں کھیلنا ایک ادھورا خواب ہی رہے گا، لیکن ملک میں موجود ہزاروں مداحوں کے لیے یہ چیز عالمی ایونٹ کا حصہ بننے میں رکاوٹ نہیں ہے، جس کا آغاز کل شمالی امریکا میں میکسیکو سے ہو رہا ہے۔

ہمیشہ کی طرح، کراچی ورلڈ کپ کے جشن کی قیادت کر رہا ہے اور شہر کے مختلف علاقوں، خاص طور پر ملیر اور لیاری میں "ورلڈ کپ فٹ بال" ویلیجز/اسپاٹس قائم کیے گئے ہیں، یہ دو ایسے مقامات ہیں جو فٹ بال کے لیے اپنی بے پناہ محبت اور جنون کے لیے جانے جاتے ہیں۔

اس بار ملیر نے لیاری کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، جسے پاکستان میں فٹ بال کی جنت کہا جاتا ہے۔

ملیر کے صدیق گوٹھ میں، گل بلوچ فٹبال کلب کی حوصلہ افزائی پر لوگوں نے چندہ جمع کرکے عمارتوں کی دیواروں پر کھلاڑیوں اور ٹیموں کے بڑے بڑے پوسٹرز اور آرٹ ورک لگائے ہیں، جبکہ گھروں اور کھمبوں پر مختلف ممالک کے جھنڈے لہرائے گئے ہیں تاکہ اسے حقیقی ورلڈ کپ فٹ بال کا ماحول دیا جا سکے۔

شدید گرمی کے باوجود گرمیوں کی چھٹیوں کا لطف اٹھاتے ہوئے چھوٹے بچے اور بچیاں مختلف ٹیموں کی کٹس پہن کر کھیل کود رہے ہیں اور دوڑ رہے ہیں، اور اس میں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ بچوں میں برازیل اور پرتگال دو سب سے مقبول ٹیمیں ہیں۔

علاقے کے رہائشی اور مقامی کلب کے رکن شایان بلوچ نے بتایا کہ شمالی امریکا کے ساتھ وقت کے فرق کے باوجود، تمام میچز براہِ راست دکھانے کے لیے قریبی فٹ بال گراؤنڈ پارک میں ایک بڑی ایل ای ڈی اسکرین بھی لگائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا، "یہ گرمیوں کی چھٹیاں ہیں اور بچے سب سے زیادہ پرجوش ہیں، اس لیے ہم نے ان کے لیے یہ فٹ بال ویلیج بنایا ہے۔"

تمام ورلڈ کپ ٹیموں کی مقامی طور پر تیار کردہ ٹی شرٹس فروخت کرنے والے زوہیب حسن خوشی سے بتاتے ہیں کہ انہوں نے ایک ہفتے کے دوران 1,000 سے زائد شرٹس فروخت کی ہیں۔ انہوں نے کہا، "ہر کوئی فٹ بال ٹی شرٹ پہننا اور اس جشن کا حصہ بننا چاہتا ہے۔"

کراچی کے علاقوں لیاری اور ملیر نے پاکستان کے لیے کئی قومی اور بین الاقوامی کھلاڑی پیدا کیے ہیں اور یہاں کے لوگ اس پر بے پناہ فخر محسوس کرتے ہیں۔

کوالیفائیڈ کوچ اور پاکستان کے سابق کھلاڑی ناصر اسماعیل نے کہا کہ اگرچہ پاکستان میں کرکٹ کا غلبہ ہے، لیکن فٹ بال کا جنون رکھنے والے پاکستانی تمام بین الاقوامی لیگز اور کھلاڑیوں کو گہرائی سے فالو کرتے ہیں، اور ورلڈ کپ ان کے لیے اپنے جنون کا اظہار کرنے کا بہترین وقت ہوتا ہے۔ فٹ بال میں لیاری اور ملیر کی بالادستی حیران کن نہیں ہے کیونکہ ان علاقوں میں بلوچوں کی ایک بڑی آبادی آباد ہے۔

پاکستان کے بین الاقوامی کھلاڑی کلیم اللہ خان کا ماننا ہے کہ فٹ بال کھیلوں میں سب سے سادہ کھیل ہے اور ورلڈ کپ میں کسی ٹیم کے ساتھ خود کو جوڑنا بہت آسان ہے۔

انہوں نے کہا، "یہ دیکھ کر اچھا لگ رہا ہے کہ اب پاکستان میں بھی فٹ بال کی سرگرمیاں بحال ہو رہی ہیں، کیونکہ میرا ماننا ہے کہ ہم نے دیہی علاقوں میں موجود ٹیلنٹ سے کبھی صحیح معنوں میں فائدہ نہیں اٹھایا۔"

لیاری سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے معروف ملکی کھلاڑی اعجاز "کارا" کہتے ہیں کہ یہ افسوسناک ہے کہ ان کے علاقے کو میڈیا میں صرف جرائم کی وجہ سے نمایاں کیا جاتا ہے۔

کارا نے کہا، "ہر کوئی لیاری کو جرائم اور مجرموں سے جوڑتا ہے، لیکن اس علاقے کے لوگوں کی حقیقی روح فٹ بال میں بستی ہے۔ یہاں ورلڈ کپ کے دوران آپ مختلف محلوں میں ورلڈ کپ کا رنگ دیکھیں گے اور محسوس کریں گے، جہاں سب مل کر خصوصی اسکرینوں پر میچ دیکھتے ہیں۔"

کلفٹن اور ڈیفنس جیسے پوش علاقوں کے پاکستان کے فٹ بال نقشے پر ابھرنے کے ساتھ ہی، پاکستان ویمنز ٹیم کی بیشتر ارکان، جو اسی علاقے میں رہتی ہیں، نے اپنے گھروں میں مل کر میچ دیکھنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

ویمنز ٹیم کی نوجوان اسٹرائیکر مریم زہری، جو قومی ٹیم کے لیے بین الاقوامی ایونٹس کھیل چکی ہیں، نے بتایا کہ جب سے کلفٹن میں یونائیٹڈ کلب کو شہرت ملی ہے، علاقے کے نوجوان اب فٹ بال کے دیوانے فالوورز بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا، "ورلڈ کپ بہت خاص ہے، لیکن پورا سال ہماری سرگرمیاں انگلش پریمیئر لیگ کے گرد گھومتی ہیں۔"

کراچی انتظامیہ نے بھی اس بار شہر کے مختلف علاقوں میں پارکوں اور میدانوں کا استعمال کیا ہے تاکہ نوجوانوں کے لیے ورلڈ کپ کے ایونٹس کا انعقاد کیا جاسکے اور گرمیوں کی چھٹیوں میں انہیں مصروف رکھا جاسکے۔ گلشنِ اقبال کے علاقے میں بچے فٹ بال کھیلنا سیکھ رہے ہیں اور ساتھ ہی انہیں اپنے کیمپ کے دوران میچز دیکھنے اور مباحثوں میں حصہ لینے کی ترغیب بھی دی جا رہی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US