آئندہ وفاقی بجٹ میں کاروباری شعبے کو ریلیف دینے کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ذرائع کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی مجوزہ اقدامات پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔
معروف تاجر رہنما عارف حبیب نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ حکومت بزنس سیکٹر کو نمایاں ریلیف فراہم کرنے جا رہی ہے اور اس سلسلے میں آئی ایم ایف کے ساتھ اتفاق رائے ہوچکا ہے۔ ان کے مطابق آئندہ بجٹ میں پرائمری سرپلس اور ٹیکس وصولیوں کے اہداف پر بھی دونوں فریقین کے درمیان اتفاق طے پا گیا ہے۔
عارف حبیب کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے حکومت کو معاشی اہداف سے بھی آگاہ کردیا ہے، جبکہ ٹیکس کی شرحوں اور توانائی کی لاگت میں کمی لانے کے لیے حکومت اس بار سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے بقول مجوزہ ریلیف پیکج کی مالیت تقریباً 1200 ارب روپے بنتی ہے، تاہم آئی ایم ایف کی جانب سے مقرر کردہ معاشی اہداف کے اندر اس کے لیے مالی گنجائش موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت یہ ریلیف فراہم کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو اس سے نہ صرف ملکی معیشت کو تقویت ملے گی بلکہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بھی نمایاں تیزی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔