پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بورڈ کرکٹ کے ڈھانچے میں کچھ بڑی تبدیلیوں بشمول قومی ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی کے حوالے سے ایک تفصیلی بریفنگ دے گا۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ وہ صرف اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں کہ پیر کے روز بڑے اعلانات کیے جائیں گے، تاہم کرکٹ کے مداحوں کو ان فیصلوں کے نتائج دیکھنے کے لیے ایک یا دو سال انتظار کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ کپتانی کا فیصلہ کرکٹ کے ماہرین (کرکٹ مائنڈز) کریں گے، لیکن اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ پیر کو شان مسعود کی جگہ سلمان علی آغا کو کپتان مقرر کر دیا جائے گا، کیونکہ شان مسعود کی کپتانی میں ٹیم کو 16 میں سے 12 ٹیسٹ میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
نقوی نے یہ بھی بتایا کہ جولائی میں کھلاڑیوں کو دیے جانے والے سینٹرل کانٹریکٹس (مرکزی معاہدوں) کے طریقہ کار اور فارمیٹ میں بھی ترمیم کی گئی ہے اور ٹیسٹ کھلاڑیوں کے لیے کانٹریکٹس میں مزید مراعات متعارف کرائی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا، "کانٹریکٹس مختلف کیٹیگریز (شاید پانچ کیٹیگریز) میں ہوں گے، لیکن ٹیسٹ فارمیٹ کے لیے بورڈ نے کھلاڑیوں کے مالی فوائد میں اضافہ کیا ہے۔"
سابق ٹیسٹ کپتان یونس خان کے بھی بورڈ میں کسی اہم عہدے پر شامل ہونے کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ انہوں نے خود پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لیے کسی بھی حیثیت میں ذمہ داری سنبھالنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔
یونس خان نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "میرا ماننا ہے کہ کرکٹ کے نظام کو بہتر بنانے اور کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں سابق کھلاڑیوں کا بہت بڑا کردار ہے۔"
محسن نقوی نے ہفتے کے روز نیشنل سلیکٹرز، قومی ٹیم کے کوچز اور کچھ سینئر کھلاڑیوں سمیت کئی اہم حکام سے ملاقاتیں کیں، جو کہ بظاہر ان تبدیلیوں کا حصہ ہیں جن کا اعلان پیر کو کیا جانا ہے۔
محسن نقوی، جو 2024 کے آغاز سے چیئرمین کے عہدے پر فائز ہیں، کے دور میں قومی ٹیموں اور ان کے خود منتخب کردہ سلیکٹرز اور بورڈ حکام کو کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی، جس کی وجہ سے پاکستان کرکٹ کے معاملات پر روزانہ کی بنیاد پر تنقید کی جا رہی ہے۔
وہ خود بھی وفاقی وزیر داخلہ کے طور پر اپنے زیادہ اہم کردار میں کافی مصروف رہے ہیں اور مڈل ایسٹ (مشرق وسطیٰ) کے تنازع، جو اب اپنے تیسرے مہینے میں داخل ہوچکا ہے کو ختم کرنے اور امریکا و ایران کے درمیان امن معاہدہ کرانے کی پاکستانی کوششوں کے سلسلے میں ایران کے کئی دورے کرچکے ہیں۔