پاکستان کے اعلیٰ ترین مرد اور خواتین ٹیبل ٹینس کھلاڑیوں کو پاکستان ٹیبل ٹینس فیڈریشن (پی ٹی ٹی ایف) کی جانب سے ایک شدید جھٹکا لگا ہے، جس نے کھلاڑیوں سے کہا ہے کہ اگر وہ رواں سال کے آخر میں جاپان میں ہونے والے ایشین گیمز میں شرکت کرنا چاہتے ہیں تو اپنے فنڈز کا بندوبست خود کریں۔
کھلاڑیوں کو یہ خبر اس وقت ملی جب ان میں سے کچھ نے لاہور میں جاری دو روزہ قومی ٹرائلز کے دوران روزانہ کے الاؤنس اور سفری اخراجات (ٹی اے، ڈی اے) کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے پی ٹی ٹی ایف حکام سے رابطہ کیا۔
ایک کھلاڑی نے بتایا، "ہمیں صاف کہہ دیا گیا ہے کہ ٹرائلز میں شرکت کے لیے ہمیں کوئی ادائیگی نہیں کی جائے گی، اور دوسری بات یہ کہ ایشین گیمز کے لیے منتخب ہونے والے کھلاڑیوں کو اپنے ہوائی ٹکٹوں اور ایشین گیمز کے دوران اخراجات پورے کرنے کے لیے روزانہ 50 ڈالر کے حساب سے غیر ملکی کرنسی کا انتظام خود کرنا ہوگا۔"
انہوں نے کہا کہ جب کھلاڑیوں نے اس پر احتجاج کیا تو پی ٹی ٹی ایف کے ایک سینئر عہدیدار نے ان سے کہا کہ انہیں شکر گزار ہونا چاہیے کہ ٹرائلز کا انعقاد کرایا گیا ہے، کیونکہ فیڈریشن کو پاکستان سپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کی جانب سے کوئی فنڈز یا گرانٹ موصول نہیں ہوئی ہے۔
کھلاڑی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سوال اٹھایا، "ہمیں بتایا گیا کہ ایشین گیمز کے لیے بھی پی ٹی ٹی ایف کو پی ایس بی سے کوئی گرانٹ یا فنڈز نہیں مل رہے، جو کہ حیران کن ہے۔ کیا پاکستان میں کھیلوں کو اسی طرح فروغ دیا جاتا ہے؟"
ملائیشیا، چین، کوریا اور بھارت جیسی صفِ اول کی ٹیموں کی موجودگی کے باعث پاکستان نے ایشین گیمز یا ایشین چیمپیئن شپ کے ٹیبل ٹینس مقابلوں میں کبھی کوئی میڈل نہیں جیتا ہے۔