عالمی منڈی میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پانے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
مارکیٹ رپورٹس کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) کی قیمت میں 4 ڈالر فی بیرل کمی ہوئی جس کے بعد اس کی قیمت 83.70 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔ اسی طرح امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) 3.75 ڈالر سستا ہو کر 80.76 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہونے لگا۔
ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی اور امن معاہدے کے اعلان کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں خدشات کم ہوئے جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد کمی دیکھی گئی۔
یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے پر باضابطہ دستخط 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے۔ معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں بند کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ امریکا اور ایران نے بھی معاہدے کی تصدیق کر دی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں کے بعد پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا مطالبہ سامنے آگیا۔ سینئر صحافی حامد میر نے وزیراعظم شہباز شریف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر کہا کہ اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑی ڈیل طے پا جاتی ہے تو پاکستانی عوام کو پیٹرول اور دیگر ایندھن کی قیمتوں میں خاطر خواہ ریلیف ملنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں کم از کم 200 روپے تک کمی کی گنجائش پیدا ہونی چاہیے تاکہ عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچ سکے۔