شرحِ سود برقرار رکھنے کا فیصلہ مایوس کن ہے، محمد رضا قائم مقام صدر کراچی چیمبر

image

کراچی چیمبر کے قائم مقام صدر محمد رضا نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی اشاریوں میں بہتری اور عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال میں کمی کے پیش نظر کاروباری برادری کو بھرپور توقع تھی کہ گزشتہ مانیٹری پالیسی میں کیے گئے 100 بیسس پوائنٹس کے اضافے کو واپس لے لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کاروبار کرنے کی لاگت پہلے ہی تشویشناک حد تک بلند ہے جس کے باعث صنعتوں اور کاروباری اداروں کے لیے مسابقتی ماحول میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی چیمبر ہمیشہ سے اس مؤقف پر قائم رہا ہے کہ پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ تک لایا جانا چاہیے تاکہ تجارت اور صنعت کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم کیا جا سکے، معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے اور نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو۔

محمد رضا نے یاد دلایا کہ گزشتہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں متوقع افراطِ زر اور اس وقت موجود غیر یقینی صورتحال کے باعث پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا گیا تھا تاہم اب حالات مثبت سمت میں تبدیل ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں قرضوں کی لاگت میں کمی کی گنجائش پیدا ہوچکی ہے۔

انہوں نے حالیہ بین الاقوامی پیش رفت اور گزشتہ چند روز کے دوران سامنے آنے والے حوصلہ افزا اشاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امن معاہدے کے امکانات اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں بتدریج کمی معاشی استحکام کے لیے سازگار ثابت ہو رہی ہے۔ مزید برآں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور مجموعی عالمی ماحول میں بھی بہتری کے آثار نمایاں ہیں جنہیں نئی مانیٹری پالیسی مرتب کرتے وقت مدنظر رکھا جانا چاہیے تھا۔

محمد رضا نے کہا کہ کاروباری برادری کی توقع تھی کہ اسٹیٹ بینک کم از کم گزشتہ مانیٹری پالیسی میں کیے گئے 100 بیسس پوائنٹس کے اضافے کو واپس لے گا۔ ان کے مطابق ایسا اقدام سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کے لیے ایک مثبت پیغام ثابت ہوتا اور اس سے معاشی بحالی کے عمل کو تقویت ملتی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلند شرح سود کاروباری اداروں پر مالی بوجھ میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے، صنعتی توسیع کی حوصلہ شکنی کا باعث بن رہی ہے اور برآمدات میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب کاروباری شعبہ پہلے ہی بلند توانائی نرخوں، بھاری ٹیکسوں اور بڑھتی ہوئی آپریشنل لاگت جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے، پالیسی ریٹ کو بلند سطح پر برقرار رکھنا معیشت کے پیداواری شعبوں کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کرنے کے مترادف ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US