کراچی پریس کلب میں متاثرہ بچی کے والد محمد طارق نے اپنی اہلیہ، بیٹی، سماجی رہنما صابر گولا اور وکیل لیاقت گبول کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کے دوران پولیس کی جانبداری اور ملزمان کو تحفظ فراہم کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔
رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے اور قیوم آباد سی ایریا کے رہائشی محمد طارق نے بتایا کہ وہ انتہائی نامساعد حالات میں محنت مزدوری کر کے اپنی پانچ بیٹیوں کی پرورش کر رہے ہیں، جبکہ ان کی اہلیہ گھروں میں کام کرتی ہیں۔ دو ماہ قبل، 15 اپریل 2026ء کو دوپہر کے وقت ان کی 13 سالہ بیٹی، جو ساتویں جماعت کی طالبہ ہے، اسکول سے گھر واپس آ رہی تھی کہ ملزم عدنان مہر اور اس کے بھائی نے بچی کو زبردستی مکان میں لے جا کر اسے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
متاثرہ بچی کی والدہ کے مطابق جب بیٹی غیر معمولی حالت میں گھر پہنچی تو پوچھنے پر اس نے واقعے کی تفصیلات بتائیں، جس پر اہل خانہ نے شور مچایا تو ملزم موقع سے فرار ہو گیا۔ واقعے کی اطلاع مددگار 15 پولیس کو دی گئی، جس پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر بچی کو طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کیا اور واقعے کا مقدمہ بھی درج کرلیا۔ تاہم، اہل خانہ کا الزام ہے کہ پولیس ملزمان اور ان کے سہولت کاروں کو گرفتار کرنے کے بجائے انہیں تحفظ فراہم کر رہی ہے اور انہیں طبی معائنے کی رپورٹ (میڈیکل رپورٹ) بھی فراہم نہیں کی جا رہی۔
بچی کے والد نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ ملزمان نے پولیس کی مبینہ ملی بھگت سے عبوری ضمانت (انٹیرم بیل) حاصل کرلی ہے، جبکہ تھانے جانے پر تفتیشی افسر انسپکٹر میڈم حاجرہ کی جانب سے مبینہ طور پر رشوت کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ انہیں مسلسل سنگین دھمکیاں دی جا رہی ہیں جس سے ان کی جانوں کو خطرہ ہے۔
بچی کی والدہ نے وزیراعلیٰ سندھ، گورنر، آئی جی سندھ اور بلخصوص بلاول بھٹو زرداری سے اپیل کی ہے کہ واقعے میں ملوث تمام ملزمان اور ان کے سہولت کاروں کو فوری گرفتار کر کے غریب خاندان کو انصاف اور تحفظ فراہم کیا جائے۔