سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کا اپنا پہلا دورہ کیا، جہاں ان کے اعزاز میں روایتی گونگ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر چیئرمین ایس ای سی پی نے اسٹاک ایکسچینج کے اعلیٰ عہدیداران اور ممبران سے تفصیلی ملاقات بھی کی۔
گونگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی ایس ایکس روحیل محمد نے ڈاکٹر کبیر احمد سدھو کو خوش آمدید کہا اور بتایا کہ حالیہ جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باوجود پاکستان اسٹاک ایکسچینج ثابت قدم رہی ہے، جس سے مارکیٹ پر سرمایہ کاروں کے گہرے اعتماد کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ رواں سال گزشتہ 20 سال کے دوران سب سے زیادہ کمپنیاں اسٹاک مارکیٹ میں لسٹ ہوئیں، جبکہ انہوں نے کیپیٹل مارکیٹس ڈویلپمنٹ فنڈ کے قیام پر ایس ای سی پی کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج دنیا بھر کی مارکیٹوں میں درجہ بہ درجہ بہتر ہو رہی ہے اور دنیا ایک مرتبہ پھر پاکستان کی جانب دیکھ رہی ہے جس کا ہم عملی جواز پیش کر رہے ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹو آفیسر پی ایس ایکس فرخ سبزواری نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج اب مکمل طور پر ڈیجیٹائز ہوچکی ہے، جس کی وجہ سے ملینیئلز اور جین زی (نوجوان نسل) اسٹاک مارکیٹ میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں اور مارکیٹ میں نئے بروکرز بھی آرہے ہیں۔ انہوں نے مارکیٹ کے اہم اعدادوشمار کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پی ایس ایکس میں سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھ کر 5 لاکھ 63 ہزار 372 ہو گئی ہے، جبکہ مارکیٹ کیپیٹلائزیشن 20 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکی ہے جو کہ تاریخی اعتبار سے ایک مرتبہ 21 ہزار ارب روپے سے بھی تجاوز کرگئی تھی۔ فرخ سبزواری نے مزید بتایا کہ اس وقت پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی مارکیٹ کیپ ٹو جی ڈی پی شرح 16 فیصد ہے، جبکہ وزیرِ خزانہ کے وژن کے مطابق مارکیٹ کیپ ٹو جی ڈی پی کی اس شرح کو 30 فیصد تک ہونا چاہیے۔