کراچی میں جیولرز برادری کی جانب سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرایا جا رہا ہے، شہر بھر میں تمام صرافہ بازاروں میں جیولرز شاپس احتجاجاً بند کرکے ریلی نکالی گئی۔
جیولرز رہنما قاسم شکار پوری نے ایف بی آر سے مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ملک گیر ہڑتال کا فیصلہ سب کی مشاورت سے کیا جائے گا۔
احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے رہنما قاسم شکارپوری نے کہا کہ ہم اپنے مطالبات کے لیے اسلام آباد تک گئے لیکن ہمارے مسائل حل نہیں ہوئے۔ انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کی ظالمانہ کارروائیاں کسی صورت قبول نہیں کی جائیں گی، ادارہ اپنا شارٹ فال جیولرز سے پورا کرنا چاہتا ہے۔
قاسم شکارپوری کا کہنا تھا کہ جیولرز انڈسٹری پورے پاکستان سے ٹیکس دیتی ہے اور ہم آئندہ بھی ٹیکس دیتے رہیں گے مگر رشوت کسی صورت نہیں دیں گے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایف بی آر ہم سے کروڑوں روپے کی رشوت مانگ رہا ہے اور یہ محکمہ اب ایک "گینگ وار" کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے، جس کے کالے قانون کو ہم تسلیم نہیں کرتے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پشاور کے جیولرز سے ایف بی آر حکام 25 کروڑ روپے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ چیئرمین ایف بی آر ہم سے ناجائز مطالبات کرتے ہوئے 600 فیصد ٹیکس کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت جیولرز برادری پورے پاکستان سے 22 ارب روپے کا ٹیکس دے رہی ہے اور ہم 44 ارب روپے ٹیکس دینے کو بھی تیار ہیں، بشرطیکہ ہماری ایف بی آر سے جان چھڑائی جائے۔ قاسم شکارپوری نے واضح کیا کہ اب ہم اسلام آباد نہیں جائیں گے اور وہاں کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔ انہوں نے وارننگ دی کہ ہمارا آخری لائحہ عمل پورے پاکستان کو بند کرنا ہوگا، اور اس حوالے سے حتمی فیصلے سے دو دن بعد آگاہ کیا جائے گا۔