فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے عہدیداران نے فیڈریشن ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کمرشل امپورٹرز اور انڈسٹریل امپورٹرز کے درمیان ٹیکسیشن کے نظام میں موجود واضح فرق پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ایف پی سی سی آئی کے سینیئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کمرشل امپورٹرز پر انڈسٹریل امپورٹرز کے مقابلے میں زیادہ سیلز ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس عائد کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے کمرشل امپورٹرز کو 6 سے 9 فیصد تک زائد ٹیکس ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دونوں امپورٹرز پر یکساں ٹیکسیشن ہونی چاہیے کیونکہ اس دیرینہ مسئلے کا واحد حل صرف اور صرف 'لیول پلیئنگ فیلڈ' کی فراہمی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ کئی جعلی کمپنیاں انڈسٹریل لائسنس کا سہارا لے کر اس نظام سے ناجائز فائدہ حاصل کر رہی ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر آصف سخی نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کمرشل امپورٹرز سے لیے جانے والے زائد ٹیکسز میں سیلز ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس شامل ہیں، جب کہ دوسری طرف انڈسٹریل امپورٹرز کو ان ٹیکسز پر ریفنڈ بھی حاصل ہو رہا ہے۔ عہدیداران نے خبردار کیا کہ ٹیکسز کے اس فرق کی وجہ سے ملک میں بلیک اور ان ڈاکیومنٹڈ (غیر دستاویزی) اکانومی کو فروغ حاصل ہوگا، اور جب تک اس بنیادی پالیسی کو ٹھیک نہیں کیا جاتا، تب تک حکومت کا فیس لیس سسٹم بھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔
اس موقع پر یارن مرچنٹ کے چیئرمین ثاقب گڈلک نے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ کمرشل امپورٹرز قانونی طور پر ملکی ٹیکس نظام کے تحت ہی کام کرنا چاہتے ہیں، بشرطیکہ ان کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ ایف پی سی سی آئی کے سابق نائب صدر شبیر منشاء نے بھی اس موقف کی تائید کرتے ہوئے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ خام مال کو خام مال کی طرح ہی ٹریٹ کیا جائے اور امپورٹ کی سطح پر تفریق کو ختم کیا جائے۔