اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ رواں مالی سال کے ابتدائی 11 ماہ کے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ڈیٹا کے مطابق ان 11 ماہ کے دوران ملکی برآمدات میں ڈیڑھ ارب ڈالر یعنی 5.7 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد برآمدات کا کل حجم 27 ارب 88 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہا۔
اس کے برعکس، اسی عرصے کے دوران ملکی درآمدات میں 3 ارب 70 کروڑ ڈالر یعنی 6.3 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا، جس سے مجموعی درآمدات کا مالی حجم 62 ارب 85 کروڑ ڈالر تک جا پہنچا ہے۔
ماہرین کے مطابق خطے میں مہنگی ترین بجلی اور گیس کے ریٹس، بلند شرح سود، عالمی حالات اور عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے برآمدات پر منفی اثرات مرتب کیے اور ملکی امپورٹ بل میں اضافہ کیا۔
اگر صرف ماہِ مئی کے اعدادوشمار کا جائزہ لیا جائے تو مئی میں ملکی برآمدات کا حجم 2 ارب 69 کروڑ ڈالر رہا، جو سالانہ بنیاد پر ایک فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 9 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
دوسری جانب، مئی میں درآمدات کا حجم 5 ارب 48 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا، جس میں سالانہ بنیاد پر 3.3 فیصد کی کمی جبکہ ماہانہ بنیاد پر 19 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔
درآمدات و برآمدات میں عدم توازن سے پاکستان کا تجارتی خسارہ بڑھ گیا، مئی میں پاکستان کو صرف ایک ماہ میں دو ارب 80 کروڑ ڈالر کا تجارتی خسارہ ہوا، جبجی 11 ماہ میں پاکستان کو 34 ارب ڈالر کے تجارتی خسارہ کا سامنا کرنا پڑا۔