پاکستان کرکٹ بورڈ کے سینٹرل کنٹریکٹ 27-2026 میں صرف ریڈ بال (ٹیسٹ کرکٹ) کے 'ٹریک اے' کیٹیگری میں شامل ہونے والے کھلاڑیوں کی میچ فیس میں اضافہ اور ماہانہ تنخواہوں میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ایک معتبر ذرائع نے بتایا کہ ایک کمیٹی، جس میں وائٹ بال اور ریڈ بال کے ہیڈ کوچز مائیک ہیسن اور سرفراز احمد شامل ہیں، نے نئے کنٹریکٹس کے مسودے کو حتمی شکل دے دی ہے، جو اب فارمیٹ کے لحاظ سے کیٹیگریز میں دیے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ پی سی بی نے ان کھلاڑیوں کے لیے زیادہ مالی مراعات پر زور دیا ہے جو 'ٹریک اے' کیٹیگری میں شامل ہوں گے، یعنی وہ کھلاڑی جو صرف ٹیسٹ کرکٹ کھیلتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان کی میچ فیس تقریباً 15 لاکھ (1.5 ملین) پاکستانی روپے ہونے کی توقع ہے، جبکہ ٹیکسوں کی کٹوتی سے قبل ان کا ماہانہ ریٹینر (تنخواہ) 40 لاکھ (4 ملین) روپے کے لگ بھگ ہوگا۔ اس سے قبل، گزشتہ کنٹریکٹس میں کھلاڑیوں کو ٹیسٹ میچ فیس تقریباً 8 لاکھ روپے دی جاتی تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے اشارے ملے ہیں کہ پی سی بی شاید ان کھلاڑیوں کے ناموں اور کیٹیگریز کا اعلان نہ کرے جنہیں سینٹرل کنٹریکٹ دیے جا رہے ہیں۔ پاکستان کرکٹ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہوگا، جس کی وجہ سے بورڈ پر پہلے ہی تنقید شروع ہوچکی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اے اور بی کیٹیگریز میں کنٹریکٹ حاصل کرنے والے کھلاڑیوں (یعنی وہ کھلاڑی جو ٹیسٹ اور وائٹ بال دونوں فارمیٹس کھیلنے کے لیے منتخب ہوں گے) کو سب سے زیادہ معاوضہ دیا جائے گا۔ انہیں میچ فیس کے علاوہ تقریباً 48 سے 50 لاکھ (4.8 سے 5 ملین) روپے ماہانہ ریٹینر ملے گا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ بورڈ نے آئی سی سی (ICC) اور ایشیا کپ کے ایونٹس جیتنے پر نئے مالیاتی بونس بھی شامل کیے ہیں۔ آئی سی سی ایونٹ جیتنے کی صورت میں کھلاڑیوں کو ان کی میچ فیس کا 500 فیصد بونس، جبکہ ایشیائی سطح کا ایونٹ جیتنے پر 300 فیصد بونس کی ضمانت دی گئی ہے۔
دوسری جانب، وہ کھلاڑی جنہیں صرف 'ٹریک سی' کیٹیگری میں کنٹریکٹ دیا جائے گا (یعنی وہ جو صرف ٹی ٹوئنٹی اور فرنچائز بیسڈ لیگز کھیلیں گے) انہیں تقریباً 12 سے 15 لاکھ (1.2 سے 1.5 ملین) روپے ماہانہ ریٹینر ملے گا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پی سی بی نے فارمیٹ کی بنیاد پر سینٹرل کنٹریکٹس متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔
ڈویلپمنٹ اور نیشنل اکیڈمی کیٹیگری میں شامل کھلاڑیوں کو 10 لاکھ (1 ملین) روپے ماہانہ ریٹینر دیا جائے گا۔ جبکہ صرف 'ٹریک بی' کیٹیگری میں شامل کھلاڑیوں کو، جو صرف ون ڈے (ODIs) اور ٹی ٹوئنٹی کھیلتے ہیں، 18 لاکھ (1.8 ملین) روپے تک ماہانہ ریٹینر ملے گا۔ بورڈ نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا ہے کہ کل کتنے کھلاڑیوں کو یہ کنٹریکٹس دیے جا رہے ہیں۔