افواہوں پر چیزیں مہنگی کرنے والی مافیا نے عوام کو لوٹ لیا بجٹ میں سولر سسٹم پر سیلز ٹیکس تو نا بڑھا لیکن امپورٹرز اور دکانداروں نے چند دن میں کروڑوں کما لئے ٹیکس نا بڑھنے پر بجٹ کے بعد سولر پینلز اور بیٹریز کی آسمان پر پہنچ جانے والی قیمتیں تیزی سے نیچے آنےلگیں
امپورٹرز اور دکانداروں نے بجٹ سے قبل چند دن میں کروڑوں کما لئے۔۔20 ہزار روپے میں فروخت ہونے والا 585 اور 650 واٹ والا جنکو اور لونجی کا سولر پینل بجٹ میں ٹیکس کی شرح بڑھنے کی اطلاعات پر 27 سے 28 ہزار روپے میں فروخت کیا گیا جبکہ سوا دو لاکھ والی لیتھیئم بیٹری کی قیمت ڈھائی لاکھ تک پہنچادی گئی۔
اسی طرح پانچ سے دس کلو واٹ کی بڑی بیٹریاں جو پہلے پانچ لاکھ میں فروخت ہوتی تھیں ان کے دام ڈیمانڈ بڑھنے پر سات لاکھ روپے تک بھی وصول کئے گئے۔ تاہم اب بجٹ میں ٹیکس نہ بڑھنے پرسولر پینلز اور بیٹریز کی بلند قیمتیں نیچے آنے لگی ہیں۔ مارکیٹ سروے کے مطابق چند روز میں دو ہزار اور دو ہفتے میں سولر پینل کی قیمت 7 ہزار روپے تک نیچے آنے کا امکان ہے۔
اسی طرح لیتھیئم بیٹریز کی قیمتوں میں 25 ہزار سے دو لاکھ روپے تک کمی کا امکان ہے ڈیلرز کے مطابق ٹیکس بڑھنے کی خبروں پر لوگوں نے لائن لگاکر سولر سسٹم خریدا۔امپورٹرز اور دکانداروں نے بجٹ سے قبل سولر پینل 5 سے 7 ہزار روپے مہنگا کردیا تھا اور بیٹریز کی قیمت 25 ہزار سے دو لاکھ روپے تک بڑھا دی تھی۔
مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ بھیڑ چال اور چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے سے اس ساری صورتحال میں عوام کو صرف دوماہ میں بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔