پاکستان کے سینئر سلیکٹر اور سابق ٹیسٹ فاسٹ بولر عاقب جاوید نے سابق کھلاڑیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر کرکٹ بورڈ اور ٹیم پر تنقید کرنے کے بجائے میدان میں عملی کام کرنے پر توجہ دیں۔
نجی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عاقب جاوید نے ان سابق کھلاڑیوں کے رویے پر کڑی تنقید کی جنہوں نے شوز میں بیٹھ کر پی سی بی، سلیکٹرز، کوچز اور کھلاڑیوں پر محض تنقید کرنے کو اپنا معمول بنا لیا ہے۔یہ ان کا کام نہیں ہے، یہ میڈیا کے لوگوں کا کام ہے جو کرکٹ پر بات کرتے ہیں۔ یہ سابق کھلاڑی اپنے شہروں اور قصبوں میں باہر نکل کر عملی کام کیوں نہیں کرتے اور کھلاڑیوں کو تلاش کرنے، انہیں نکھارنے اور ان کی کوچنگ میں مدد کیوں نہیں کرتے؟
انہوں نے کہا کہ سابق کھلاڑیوں کا فرض ملک میں کھیل کی ترقی اور فروغ کے لیے کام کرنا ہے، اور وہ اپنے اپنے علاقوں میں رہ کر اور اپنی مہارت کا استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں کی مدد کر کے یہ فرض ادا کر سکتے ہیں۔
پی سی بی کے ساتھ 2024 سے وابستہ اور ہائی پرفارمنس سینٹر میں ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ کے عہدے پر فائز عاقب جاوید نے کہا روزانہ بیٹھ کر صرف یہ دہرانے سے کیا حاصل کر رہے ہیں کہ یہ غلط ہے اور وہ غلط ہے؟ پردے کے پیچھے کیا ہوتا ہے یا فیصلے کیوں لیے جاتے ہیں، اس کی زمینی حقیقت سے کوئی واقف نہیں ہوتا۔
انہوں نے بتایا کہاب ڈومیسٹک میچوں کی ویڈیوز، اینالسٹس اور ڈیٹا سمیت ہر چیز دستیاب ہے، جسے ہم اپنے گھروں میں کمپیوٹر پر دیکھ سکتے ہیں اور جان سکتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سب سے آسان کام دوسروں پر تنقید کرنا ہے، لیکن کوئی بھی واقعی آزادانہ طور پر اپنا وقت دینے اور مثبت کردار ادا کرنے کے لیے کوششیں کرنے کو تیار نہیں ہے۔ انہوں نے بات مکمل کرتے ہوئے کہا کہ مثبت شراکت داری کے لیے پی سی بی کا حصہ ہونا یا کسی عہدے پر ہونا ضروری نہیں ہے۔