تقریباً پانچ منٹ کے اس جراثیم کش دوا کے اشتہار کو ایک مختصر ڈرامے کے انداز میں پیش کیا گیا تھا، جس میں ابتدا میں ایک مرد کو ایک ایسی پارٹنر تلاش کرتے ہوئے دکھایا گیا جو ’پاکیز‘ ہو اور ’دیگر مردوں نے اسے داغ دار نہ کیا ہو۔‘
اشتہار میں ڈیٹول کو ’جراثیم جیسے ٹاکسک (زہریلے) مردوں‘ کے خلاف ایک حل کے طور پر پیش کیا گیابرطانوی کمپنی ڈیٹول نے چین میں اپنے ایک اشتہار پر معذرت کر لی ہے، جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد صنفی امتیاز کی نشاندہی کرنا تھا، تاہم اس کا ردِ عمل اُلٹا ہی سامنے آیا۔
تقریباً پانچ منٹ کے اس جراثیم کش دوا کے اشتہار کو ایک مختصر ڈرامے کے انداز میں پیش کیا گیا تھا، جس میں ابتدا میں ایک مرد کو ایک ایسی پارٹنر تلاش کرتے ہوئے دکھایا گیا جو ’پاکیز‘ ہو اور ’دیگر مردوں نے اسے داغ دار نہ کیا ہو۔‘
اشتہار کے آخری حصے میں ایک موڑ آتا ہے، جب اس مرد کی نئی دوست ان کے عورت مخالف رویے پر انھیں ٹوکتی ہیں اور ان سے تعلق ختم کر دیتی ہیں۔
اس کے بعد ڈیٹول کو ’جراثیم کی طرح کے ٹاکسک (زہریلے) مردوں‘ کے خلاف ایک حل کے طور پر پیش کیا گیا۔
اس اشتہار نے چین میں انٹرنیٹ پر شدید ردِ عمل کو جنم دیا، جہاں کچھ صارفین نے کہا کہ یہ خواتین کو ایک شے بنا کر پیش کرتا ہے جبکہ دیگر افراد نے ڈیٹول کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مواد کی نگرانی کے طریقۂ کار کا جائزہ لے گیصارفین کی جانب سے شدید ردِ عمل کے اس اشتہار کو بند کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب ڈیٹول کا کہنا ہے کہ یہ اشتہار صنفی دقیانوسی تصورات پر تنقید کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، تاہم اس کے وہ حصے جو بعد میں آن لائن گردش کرتے رہے، اس کے بنیادی پیغام کو مسخ کر گئے۔
ڈیٹول نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا: ’ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اس سے بہت سے لوگوں، خصوصاً خواتین، کوتکلیف پہنچی ہے۔ ہم اشتہار کے مواد کی تیاری اور جانچ پڑتال میں کسی بھی کوتاہی کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔‘
کمپنی نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے مواد کی نگرانی کے طریقۂ کار کا جائزہ لے گی۔
ڈیٹول کا کہنا تھا کہ کمپنی کو اس مقصد کے ساتھ قائم کیا گیا تھا کہ وہ خاندانوں کی ’صحت کا تحفظ‘ کرے۔ ’لیکن ہم بخوبی جانتے ہیں کہ حقیقی تحفظ اس بات میں بھی منحصر ہے کہ ہر فرد کی عزت و وقار کا خیال رکھا جائے اور اس کے مساوی سلوک کے حق کو یقینی بنایا جائے۔‘
گذشتہ چند دنوں کے دوران اس اشتہار نے چین میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شدید بحث کو جنم دیا ہے، جہاں بہت سے لوگ اس بات پر بھی ناراض دکھائی دیے کہ اس میں کسی شخص کی ’پاکیزگی‘ کا موازنہ ڈیٹول مصنوعات کی جراثیم کش خصوصیات سے کیا گیا۔
چین میں ایکس جیسے پلیٹ فارم ویبو پر ایک صارف نے لکھا: ’کیا ہی گھٹیا اشتہار ہے۔ میرے پاس تو الفاظ ہی نہیں ہیں۔‘
ایک اور انٹرنیٹ صارف نے تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’کتنی ناکام کمپنی ہے۔ ان کی اعلیٰ انتظامیہ کیا کر رہی ہے؟ میں دوبارہ کبھی ڈیٹول استعمال نہیں کروں گا۔‘
آئی آن ڈیجیٹل چائنا کے نام سے نیوز لیٹر چلانے والی مانیا کوئتسه نے اس مہم کو ’بدنظمی‘ پر قرار دیا۔
انہوں نے کہا: ’اگرچہ ارادہ یہ تھا کہ مرد کے کردار کو غلط دکھایا جائے، لیکن پیغام اس قدر ناقص انداز میں پیش کیا گیا کہ اس کا نتیجہ الٹا نکلا۔‘
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ برطانوی کمپنی ریکٹ کی ملکیت ڈیٹول چین میں تنازع کا مرکز بنا ہو۔
گذشتہ سال بھی اسے اس اشتہار پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جس میں یہ جملہ شامل تھا: ’عورت کو اس کی شادی سے عین پہلے ’واپس‘ کر دیا گیا یقیناً وہ صاف نہیں تھی۔‘