وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے معاہدے گزشتہ 25 سے 30 سال کے دوران مختلف ادوار میں کیے گئے، لہٰذا ان معاہدوں کی ذمہ داری کسی ایک حکومت پر عائد نہیں کی جاسکتی۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ کپیسٹی پیمنٹس کے مسئلے پر تنقید کرنے والی اپوزیشن جماعتوں کے ادوار میں بھی آئی پی پیز کے منصوبے لگائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی جماعت خود کو اس عمل کا حصہ نہیں سمجھتی تو اسے اس کی وضاحت کرنی چاہیے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے بجلی کے شعبے پر پڑنے والے تقریباً 3500 ارب روپے کے مالی بوجھ میں کمی لانے میں کامیابی حاصل کی ہے، جو ایک اہم پیش رفت ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ توانائی کے شعبے کے مسائل کئی دہائیوں پر محیط پالیسیوں کا نتیجہ ہیں اور ان کے حل کے لیے اجتماعی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے ایوان میں تجویز پیش کی کہ عالمی سطح پر پاکستان کے وقار اور ساکھ میں اضافے کے لیے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو متفقہ طور پر خراج تحسین پیش کیا جائے۔