وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ہائیڈروکاربن ڈویلپمنٹ انسٹیٹیوٹ آف پاکستان (ایچ ڈی آئی پی) میں بڑے اصلاحاتی عمل کا آغاز کرتے ہوئے ادارے کی تنظیمِ نو کے لیے دو ہفتوں میں جامع ری اسٹرکچرنگ پلان طلب کرلیا ہے۔
وفاقی وزیر نے ایچ ڈی آئی پی کے ہیڈکوارٹرز اور لیبارٹریوں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیسٹنگ اور سرٹیفیکیشن کی سہولیات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے ایچ ڈی آئی پی اور ڈائریکٹوریٹ جنرل پٹرولیم کنسیشنز (ڈی جی پی سی) کو مکمل اصلاحاتی روڈ میپ تیار کرنے کے لیے دو ہفتوں کی مہلت دی۔
علی پرویز ملک نے ایچ ڈی آئی پی کی گورننس اور مجموعی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ادارے میں خالی اہم عہدوں پر تقرریوں کا عمل ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ عالمی معیار کے حصول کے لیے ایچ ڈی آئی پی کو بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط اور مستند ہائیڈروکاربن ڈیٹا بیس پاکستان میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرے گا، جبکہ قابل اعتماد معلومات ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا سبب بنیں گی۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ توانائی کے شعبے کے اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اصلاحات، بہتر گورننس اور تکنیکی استعداد میں اضافے کے ذریعے توانائی کے شعبے کی ترقی کو نئی رفتار دی جائے گی۔