قومی اسمبلی کے اجلاس میں آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال، بلدیاتی نظام اور اتحادی سیاست کے معاملات پر گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے اسپیکر سے اپوزیشن ارکان کو اظہارِ خیال کے لیے وقت دینے کی درخواست کی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی مسائل کے حل کے لیے تمام سیاسی جماعتوں پر اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بعض وفاقی وزراء کے اقدامات وزیراعظم کی کوششوں کے باوجود حکومت کے لیے مشکلات پیدا کررہے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کسی کا نام لیے بغیر وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ راولاکوٹ کے عوام کو غیر کشمیری قرار دینے والے وزیر اب بھی کابینہ کا حصہ ہیں، جس سے آزاد کشمیر میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
انہوں نے مسئلے کے سیاسی حل پر زور دیتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو مظاہرین سے مذاکرات کے لیے موقع دینے کی تجویز دی۔ بلاول نے ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور استحکام پاکستان پارٹی کے تعاون سے حکومت بنائی جائے گی۔
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے عالمی امن کے فروغ میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے آئین کی بالادستی پر مبنی نئے سماجی معاہدے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو احتساب کا عمل اپنانا چاہیے اور بااختیار بلدیاتی نظام کے قیام کا مطالبہ دہرایا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسپیکر سے اپوزیشن ارکان کو اظہارِ خیال کا موقع دینے کی درخواست کی اور بعد ازاں کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہونے والی نجی گفتگو کو خفیہ رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ان کے تعلقات باہمی احترام پر مبنی ہیں۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے آزاد کشمیر کے معاملے پر حکومت کے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں بجلی ساڑھے تین روپے فی یونٹ کے حساب سے فراہم کی جا رہی ہے جبکہ گندم پر سبسڈی بھی جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ترقیاتی نوعیت کے مطالبات تسلیم کیے، بجلی کے نظام کے لیے 10 ارب روپے مختص کیے اور کمیٹی کے 38 مطالبات پر عملدرآمد کیا۔ رانا ثناء اللہ نے الزام عائد کیا کہ بعض عناصر کا مقصد آزاد کشمیر کے انتخابات میں تاخیر پیدا کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مہاجر نشستوں میں کسی بھی قسم کی تبدیلی صرف آزاد کشمیر اسمبلی آئینی اور قانونی طریقہ کار کے تحت کر سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ متعلقہ کمیٹی نے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت سے انکار کیا اور انتخابات تک لانگ مارچ ملتوی کرنے کی تجویز بھی مسترد کردی۔
مولانا فضل الرحمان نے نیک خواہشات کے اظہار پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا، جبکہ اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان کے احتجاج اور نعرے بازی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔