آئی سی سی ویمنز ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کپ میں پاکستان خواتین کی کرکٹ ٹیم میدان میں انتہائی مشکل اور مایوس کن دور سے گزر رہی ہے، اور صورتحال کو مزید خراب کرنے کے لیے اسکواڈ میں اختلافات اور کشیدہ ماحول کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔
اگرچہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ان رپورٹس کی نہ تو تردید کی ہے اور نہ ہی تصدیق، لیکن سوشل اور مین اسٹریم میڈیا پر ٹیم کے اندرونی مسائل کے بارے میں کئی پوسٹس اور رپورٹس گردش کر رہی ہیں۔
پاکستان کو منگل کی رات لیڈز میں آسٹریلیا کے خلاف ورلڈ کپ میں مسلسل چوتھی شکست کا سامنا کرنا پڑا، اور میگا ایونٹ سے قبل آئرلینڈ پہنچنے کے بعد سے ٹیم اب تک ایک بھی میچ جیتنے میں ناکام رہی ہے، کیونکہ وہ ورلڈ کپ سے قبل آئرلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلی گئی سہ فریقی سیریز میں بھی کوئی میچ نہیں جیت سکی تھی۔
گزشتہ سال بھی بھارت اور سری لنکا میں کھیلے گئے آئی سی سی 50 اوورز کے ورلڈ کپ میں پاکستان پوائنٹس ٹیبل پر سب سے نیچے رہا تھا، جہاں ٹیم نے اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے تھے۔
رپورٹس کے مطابق ٹیم کے مینٹور اور غیر سرکاری ہیڈ کوچ وہاب ریاض اور کپتان فاطمہ ثناء کے درمیان سلیکشن کے معاملات پر شدید اختلافات پیدا ہوئے۔
بنگلا دیش کے خلاف میچ سے قبل، فاطمہ ثناء نے سینئر کھلاڑی عالیہ ریاض کے شوہر کے ٹیم ہوٹل کے کمرے میں قیام پر اعتراض اٹھایا تھا۔
ایک رپورٹ کے مطابق، "فاطمہ ثناء کے اصرار پر ہی علی یونس کو کمرہ خالی کرنے کے لیے کہا گیا۔ اس کے بعد، بنگلہ دیش کے خلاف میچ سے ایک دن پہلے جب ٹیم کا پریکٹس سیشن شیڈول تھا، عالیہ اور ان کے شوہر گھومنے پھرنے کے لیے باہر چلے گئے۔"
ظاہری طور پر جب بنگلا دیش کے خلاف میچ کے لیے پلیئنگ الیون کو حتمی شکل دی جا رہی تھی، تو ثناء نے اصرار کیا کہ عالیہ کو ٹیم میں شامل نہ کیا جائے لیکن وہاب ریاض نے ان کے انتخاب پر زور دیا۔ پاکستان کے میچ ہارنے اور عالیہ کے ناکام ہونے کے بعد، ثناء نے سب کے سامنے وہاب کو ٹوکا کہ وہ اس شکست کے ذمہ دار ہیں کیونکہ انہوں نے ضروری تادیبی (ڈسپلنری) فیصلوں پر عمل نہیں کیا۔
رپورٹس میں ٹیم کے اندر دھڑے بندیوں (گروپنگ) اور کچھ سینئر کھلاڑیوں اور کوچز کے درمیان کشیدہ تعلقات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ کوچز اس بات پر ناخوش ہیں کہ وہ کھلاڑیوں کو جو بھی پلان دیتے ہیں، میچز کے دوران ان پر عمل نہیں کیا جاتا۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ ٹیم کے اندر مسائل کی یہ رپورٹس پہلی بار سامنے نہیں آئیں، کیونکہ جب 2023 اور 2024 کے آئی سی سی ورلڈ کپ میں مردوں کی ٹیم نے اچھا پرفارم نہیں کیا تھا، تب بھی ڈریسنگ روم کے کشیدہ ماحول کی ایسی ہی کہانیاں سامنے آئی تھیں اور بعد میں ان میں سے کچھ سچ ثابت ہوئیں۔
پی سی بی نے گزشتہ 3-4 سالوں میں خواتین کی ٹیم کے ہیڈ کوچز کو بھی مسلسل تبدیل کیا ہے، جن میں ایک غیر ملکی کوچ مارک کولز، جنید خان، باسط علی، سلیم جعفر اور محتشم رشید وغیرہ شامل ہیں۔