سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) اور قومی احتساب بیورو (نیب) نے عوام کو مالی فراڈ سے بچانے اور غیر قانونی ڈپازٹ اسکیموں سمیت غیر قانونی قرضہ ایپس کے خلاف مشترکہ اور فوری کارروائی پر اتفاق کیا ہے۔ اس سلسلے میں معلومات کے تبادلے اور مشترکہ انفورسمنٹ کے لیے دونوں اداروں کے مابین جلد ایک معاہدہ بھی طے پائے گا۔
یہ فیصلہ چیئرمین نیب نذیر احمد بٹ اور چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو کے درمیان ہونے والی ایک اہم ملاقات میں کیا گیا۔ ملاقات کے دوران دونوں سربراہان نے شہریوں کو بھاری مالی نقصان پہنچانے والے قانون شکن عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل بنانے کا عزم ظاہر کیا۔
چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر سدھو کا کہنا تھا کہ غیر قانونی ڈپازٹ اسکیمیں شہریوں کو لوٹ رہی ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی کمپنی کی صرف رجسٹریشن اسے عوام سے ڈپازٹس لینے کا حق نہیں دیتی اور غیر لائسنس یافتہ کمپنیوں کے لیے ایسا کرنا سراسر غیر قانونی ہے۔ انہوں نے عوام پر بھی زور دیا کہ وہ جھوٹے منافع کے وعدوں سے ہوشیار رہیں۔
چیئرمین نیب نذیر احمد بٹ نے اس موقع پر مالی جرائم کے خاتمے کے لیے ایس ای سی پی کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط ادارہ جاتی تعاون مالی فراڈ کی روک تھام میں انتہائی مددگار ثابت ہوگا۔ دونوں اداروں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جھوٹے منافع کے لالچ میں عوام کو لوٹنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کو مزید مؤثر بنایا جائے گا اور کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔