سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی سے بھی ایف بی آر ترمیمی بل 2026 کثرتِ رائے سے منظور

image

سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ترمیمی بل 2026 کثرتِ رائے سے منظور کرلیا، جس کے تحت ایف بی آر کے ماضی میں جاری کیے گئے احکامات، نوٹیفکیشنز، معاہدوں اور تقرریوں کو قانونی تحفظ حاصل ہوگیا ہے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایف بی آر ترمیمی بل 2026 ایوان میں پیش کیا۔ بحث کے بعد ایوان نے بل کی منظوری دے دی۔

بل کے مطابق ایف بی آر ایکٹ 2007 میں متعدد اہم ترامیم کی گئی ہیں، جن میں بعض موجودہ شقوں کا خاتمہ اور نئی دفعات کا اضافہ شامل ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق یہ ترامیم سپریم کورٹ کے تاریخی ’’مصطفیٰ امپیکس‘‘ فیصلے کے تناظر میں متعارف کرائی گئی ہیں تاکہ ادارے میں انتظامی تسلسل برقرار رکھا جا سکے اور قانونی پیچیدگیوں کا خاتمہ ممکن ہو۔

منظور شدہ ترامیم کے تحت ایف بی آر ایکٹ کی دفعات 2، 5 اور 6 میں تبدیلیاں کی گئی ہیں، جبکہ پالیسی بورڈ سے متعلق شق کو ختم کردیا گیا ہے۔ مزید برآں نئی دفعہ 25 شامل کی گئی ہے، جس کے تحت ماضی میں کی جانے والی تقرریوں، فیصلوں، احکامات اور دیگر انتظامی اقدامات کی توثیق کر دی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ایف بی آر کے انتظامی و قانونی معاملات میں استحکام آئے گا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US