کراچی کی اسکیم 33، سیکٹر B17 میں 5 ارب روپے مالیت کی 8 ایکڑ اراضی پر بااثر افراد کی سرپرستی میں لینڈ مافیا کے مبینہ قبضے اور عدالتی عملے پر فائرنگ کے واقعے کا مقدمہ 22 دن گزرنے کے باوجود درج نہ ہوسکا۔
ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (آباد) کے چیئرمین کے مطابق، 2 جون کو عدالتی فرائض کی انجام دہی کے دوران زمین خالی کرانے کے لیے جانے والے عدالتی عملے پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا، جس کی قانونی کارروائی میں مسلسل تاخیر کی جا رہی ہے۔
واقعے کا مقدمہ درج کرانے کے لیے ناظرِ عدالت سلیم احمد ایک مرتبہ پھر سچل تھانے پہنچے، مگر تھانے میں پولیس کی موجودگی کے باوجود طویل انتظار کروانے کے بعد بھی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔
اس صورتحال اور پولیس کے رویے پر قانونی حلقوں اور وکلاء برادری کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ اگر عدالتی عملے کو بھی اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا مقدمہ درج کرانے کے لیے اس طرح دربدر ہونا پڑے، تو عام شہریوں کے لیے انصاف کا حصول کیسے ممکن ہوسکے گا۔