فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے آئندہ مالی سال میں 15 ہزار 264 ارب روپے کے ٹیکس ہدف کے حصول کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی نئی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔
چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے بتایا کہ تنخواہ دار طبقے، برآمد کنندگان، رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو ٹیکس ریلیف، سپر ٹیکس میں معقولیت اور ریٹیلرز کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرانے کے باوجود محصولات میں اضافہ مؤثر نفاذ اور جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر ٹیکس تنازعات کے تصفیے کے لیے ڈیجیٹل الگورتھمک سیٹلمنٹ میکانزم متعارف کرا رہا ہے، جبکہ جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی ہر ماہ جانچ پڑتال بھی کی جائے گی تاکہ ٹیکس وصولیوں میں مزید اضافہ ممکن ہو سکے۔
راشد محمود لنگڑیال کے مطابق آئندہ مالی سال میں جی ڈی پی کی شرح نمو، بڑے پیمانے کی صنعت (LSM) کی کارکردگی اور مہنگائی کی شرح سمیت معاشی اشاریے ٹیکس ہدف کے حصول میں اہم کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے آئی ایم ایف اور پارلیمنٹ کو آگاہ کیا ہے کہ نفاذ، تعمیل، پالیسی اقدامات اور ٹیکس شرح میں تبدیلی سمیت 26 ریونیو اقدامات سے مالی سال 2026-27 میں اضافی ایک ہزار 20 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے۔
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ موجودہ مالی سال کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف کم کر کے 12 ہزار 983 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ آئندہ مالی سال میں بہتر نفاذ، ڈیجیٹل نگرانی اور تعمیل کے ذریعے 15 ہزار 264 ارب روپے کا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔