پاکستان کرکٹ میں اس وقت ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے جب یہ دعوے سامنے آئے ہیں کہ قومی ٹی ٹوئنٹی کپتان سلمان علی آغا نے ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے آئندہ دوروں کے لیے شان مسعود کی جگہ ٹیسٹ کپتان بننے کی پیشکش ٹھکرا دی ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے مین اسٹریم اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان دعووں کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید، لیکن بورڈ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ پی سی بی کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہورہا ہے کہ آنے والے دوروں پر ٹیسٹ کپتان کون ہوگا۔
پاکستانی اسکواڈ 13 جولائی کو کیریبین (ویسٹ انڈیز) کے لیے روانہ ہونے والا ہے اور قومی سلیکٹرز رواں ہفتے 17 رکنی اسکواڈ کا اعلان کرنے والے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ میچوں میں حالیہ خراب نتائج، بشمول گزشتہ دورے پر بنگلا دیش کے خلاف 2-0 سے شکست کے پیشِ نظر پی سی بی شان مسعود کو تبدیل کرنے پر غور کررہا ہے لیکن اسے کوئی مناسب متبادل تلاش کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ سلمان علی آغا کو اس عہدے کی پیشکش کیے جانے کی افواہوں میں صداقت ہے، لیکن شان مسعود نے بھی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے موجودہ سائیکل کے لیے اپنی کپتانی جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
پاکستان کو شان مسعود کی کپتانی میں 16 میں سے 12 ٹیسٹ میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، تاہم ذرائع کے مطابق سلمان علی آغا کے علاوہ اس عہدے کے لیے کوئی اور موزوں امیدوار نظر نہیں آرہا۔ واضح رہے کہ بورڈ نے بابر اعظم اور محمد رضوان کے لیے مستقبل میں قیادت کے کسی بھی کردار کو مسترد کردیا ہے۔ محمد رضوان نے 2023 کے آخر میں شان مسعود کے چارج سنبھالنے سے قبل ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کی تھی۔
ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ تجربہ کار جوڑی سعود شکیل اور محمد رضوان، جو دونوں لاہور میں ریڈ بال ٹریننگ کیمپ کے دوران انجری کا شکار ہوئے تھے، اب تیزی سے صحت یاب ہو چکے ہیں اور ان کے ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ جانے کا قوی امکان ہے۔
توقع ہے کہ سلیکٹرز آنے والی سیریز کے لیے کچھ سینئر کھلاڑیوں کو ڈراپ کردیں گے، جن میں شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ اور اسپنر نعمان علی شامل ہیں۔