آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن نے سندھ کے سی این جی اسٹیشنز کو گیس کی عدم فراہمی پر ایس ایس جی سی کے دفتر کے باہر دھرنا اور احتجاج کرنے کا اعلان کردیا ہے، یہ اعلان ایسوسی ایشن کے کوآرڈینیٹر سمیر نجم الحسن نے رانا رئیس، سمیر گلزار ودیگر عہدیداروں کے ہمراہ پیر کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے تین معروف شاپنگ سینٹرز کو 5 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کی جارہی ہے لیکن 70سی این جی اسٹیشنز کو صرف ڈیڑھ ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم نہیں کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ میں فروری سے سی این جی اسٹیشنز کو آر ایل این جی کی فراہمی معطل ہے۔ 4 ماہ سے سندھ کے سی این جی اسٹیشنز بند ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ میں 660 اسٹیشنز ہوا کرتے تھے جو اب صرف 70 اسٹیشنز تک محدود ہوگئے ہیں، چار ماہ سے اپنی لیبر تنخواہ، یوٹیلٹی بلوں کی مد میں لاکھوں روپے ادا کررہے ہیں، ہمارے شعبے کو این سی ایم سی کے ماتحت کردیا گیا ہے۔ ہمیں قدرتی گیس سے آر ایل این جی گیس منتقل کردیا تھا لیکن وہ بھی فراہم نہیں کی جارہی ہے۔
رانا رئیس نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں نے ہمیں زمین پر لاکر پٹخ دیا ہے۔ سی این جی اسٹیشنز مالکان 4 ماہ سے اپنے ٹیکسوں سمیت دیگر بلوں کی ادائیگیاں کررہے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے عدالت سے بھی رجوع کیا ہوا ہے لیکن سماعت نہیں ہوپارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں فی الوقت 40 سی این جی اسٹیشنز رہ گئے ہیں۔ ایم ڈی سوئی سدرن گیس کمپنی سے ملاقات ہوئی وہ کہتے ہیں مجھے ایشو نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملک میں 3200 سی این جی اسٹیشنز کے قیام پر اس وقت 3ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی تھی۔ ہمارے مزدور سب لوگ سراپا احتجاج ہیں۔ جس طرح خیبر پختونخوا کے وزیراعلی نے اپنے صوبے کے سی این جی اسٹیشنز کھلوائے ہیں۔ اس طرز پر سندھ کی صوبائی حکومت سے بھی ہم درخواست کرتے ہیں یہاں کے وزیراعلیٰ بھی ایسا ہی کردار ادا کریں۔