سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق علاقائی کشیدگی کے باوجود پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی کارکردگی خطے کی بیشتر مارکیٹس سے بہتر رہی ہے، اور مارکیٹ میں آئی پی اوز کی مضبوط رفتار سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔
ایس ای سی پی کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات کے باعث مارکیٹ سے سرمایہ حاصل کرنا آسان ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے مزید کمپنیاں اسٹاک مارکیٹ کی جانب راغب ہو رہی ہیں۔
رواں سال جنوری تا جون 2026 کے دوران پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 10 آئی پی اوز کی منظوری دی گئی، جن کے ذریعے ان دس کمپنیوں نے اسٹاک ایکسچینج میں لسٹ ہو کر سرمایہ کاروں سے 20 ارب روپے کا سرمایہ حاصل کیا۔ سال 2026 کی پہلی ششماہی میں 9 کمپنیوں کے آئی پی اوز مکمل ہو چکے ہیں جبکہ ایل ایس ای اسپیک-II (LSE SPEC-II) کی بک بلڈنگ جلد متوقع ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں شامل ہونے والی کمپنیوں کا تعلق مینوفیکچرنگ، پیٹرولیم، ڈیری، اسلامی مالیات، پولٹری، رئیل اسٹیٹ اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں سے ہے۔
ان آئی پی اوز کے دوران سروس لانگ مارچ ٹائرز نے 7.77 ارب روپے، ستارہ پیٹرولیم نے 4.83 ارب روپے اور غنی ڈیریز نے 3.44 ارب روپے حاصل کیے۔ اس کے علاوہ پاک قطر جنرل تکافل کے آئی پی او کو مارکیٹ میں غیر معمولی پذیرائی ملی اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی جانب سے اس کی طلب 21 گنا زیادہ رہی۔
چیئرمین ایس ای سی پی کا کہنا ہے کہ سگنیچر ریزیڈنسی REIT اور جے ایس رینٹل REIT کی لسٹنگ سے ملک میں رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔