حکومت کی ٹیرف ریشنلائزیشن پالیسی کے نتیجے میں درآمدات سے حاصل ہونے والے ریونیو میں نمایاں کمی کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔
دستاویزات کے مطابق درآمدی گاڑیوں اور ان کے پرزہ جات پر کسٹم ڈیوٹی میں کمی کے باعث قومی خزانے کو 35 ارب روپے کم وصول ہوں گے۔ پالیسی کے تحت 850 سی سی سے 1800 سی سی تک کی گاڑیوں پر کسٹم ڈیوٹی میں 35 سے 50 فیصد تک کمی کی گئی ہے، جبکہ آٹو پارٹس پر 10 فیصد اور موٹر سائیکلوں پر 20 فیصد کسٹم ڈیوٹی کم کی گئی ہے۔
دستاویز کے مطابق آٹو سیکٹر، ویجیٹیبل آئل، سونا، چاندی اور موبائل فونز پر عائد اضافی کسٹم ڈیوٹی میں بھی دو، دو فیصد کمی کی گئی ہے۔ اضافی کسٹم ڈیوٹی کے خاتمے اور شرح میں کمی کے باعث ریونیو میں 47 ارب 6 کروڑ روپے کی کمی متوقع ہے۔
مزید برآں ریگولیٹری ڈیوٹی کی شرح میں کمی سے بھی قومی خزانے کو 65 ارب 57 کروڑ روپے کم حاصل ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے ٹیرف ریشنلائزیشن پالیسی کا مقصد درآمدی نظام کو آسان بنانا اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے، تاہم اس کے نتیجے میں مختصر مدت کے دوران ریونیو پر اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔