قانون میں ترمیم کے بعد اسٹیٹ بینک کی جانب سے بینکوں کو نئی ہدایات جاری کی گئی ہیں، جس کے تحت یکم جولائی سے کسی بھی اکاؤنٹ سے 10 کروڑ روپے یا اس سے زائد کی بینک ٹرانزیکشن رپورٹ کرنا لازمی ہوگی۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق جولائی سے دسمبر تک اگر کسی اکاؤنٹ میں 10 کروڑ روپے جمع یا نکالے گئے ہوں تو اس کی رپورٹ فراہم کرنا ہوگی، جبکہ اسی طرح جنوری 2027 سے جون تک ہونے والی 10 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز کو بھی رپورٹ کیا جائے گا۔ رپورٹنگ کا یہ دورانیہ سال میں دو مرتبہ 6، 6 ماہ کی مدت پر محیط ہوگا اور اس نئی ہدایت کا اطلاق ہر قسم کے بینک اکاؤنٹس سمیت ٹرم ڈپازٹس اور بینک ڈپازٹس کی دیگر تمام اقسام پر بھی ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مالی ٹرانزیکشنز کی معلومات کو ٹیکس ریٹرن سے میچ کیا جائے گا۔
اسٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ ایف بی آر بینکوں کی جانب سے فراہم کردہ ان معلومات کی سخت رازداری کو یقینی بنائے گا اور قانون کے تحت دی گئی اجازت کے علاوہ اس ڈیٹا کے کسی بھی قسم کے انکشاف یا غلط استعمال کو روکے گا۔