اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ایک مایوس کن خبر سامنے آئی ہے، جس کے تحت اب انہیں وطن واپس ڈالرز بھیجنے پر انعامی پوائنٹس نہیں ملیں گے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ساڑھے چار سال بعد "سوہنی دھرتی ریمیٹنس اسکیم" کو باقاعدہ طور پر ختم کردیا ہے اور اس حوالے سے تمام بینکوں اور ایکسچینج کمپنیوں کو سرکلر بھی جاری کردیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اسکیم عالمی مالیاتی ادارے (IMF) کے مبینہ دباؤ پر ختم کی گئی ہے۔
سوہنی دھرتی ریمیٹنس اسکیم کے تحت سمندر پار پاکستانیوں کو قانونی ذرائع سے پیسے بھیجنے پر پوائنٹس دیے جاتے تھے، جنہیں وہ ٹیکسز اور مختلف حکومتی فیسوں کی ادائیگی میں ایڈجسٹ کرا سکتے تھے۔ اس رعایت سے لاکھوں اوورسیز پاکستانیوں کو براہِ راست فائدہ پہنچ رہا تھا۔
ماہرینِ معیشت اور ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای کیپ) کے جنرل سیکریٹری کے مطابق اس اسکیم کو ختم نہیں کیا جانا چاہیے تھا کیونکہ اس سے ملک میں قانونی بینکنگ چینلز کے ذریعے ترسیلاتِ زر (ریمیٹنس) بھیجنے کے رجحان میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔
ماہرین نے یہ بھی واضح کیا کہ اس اسکیم کا کل مالی اثر بھیجے گئے ڈالرز کی مالیت کا محض ایک سے ڈیڑھ فیصد بنتا تھا، مگر اس کے باوجود یہ اسکیم 40 ارب ڈالر بھیجنے والے تارکینِ وطن کے لیے ایک بڑا حوصلہ افزا اقدام تھی۔