امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے معاملے میں بہت زیادہ وقت ضائع کیا جا چکا ہے اور ان کے خیال میں مفاہمتی یادداشت اب ختم ہو چکی ہے، لہٰذا اب امریکا کو اپنا کام کرنا ہوگا۔
انقرہ میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ روز ایران نے سعودی عرب اور دیگر ممالک کے طیاروں پر حملے کیے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ معاملات طے کرنے کی بھرپور کوشش کی، تاہم اب کوئی بھی ان کے ساتھ معاملہ نہیں کرنا چاہتا۔ ٹرمپ نے ایران کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب مزید وقت ضائع کرنے کے بجائے عملی اقدامات کا وقت آ گیا ہے۔
نیٹو کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ نیٹو امریکا کا سب سے مشکل اتحادی ہے اور وہ اس اتحاد کی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف کارروائی میں نیٹو نے امریکا کی مدد نہیں کی، جبکہ امریکا نے نیٹو کے رکن ممالک کو روس سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک ٹریلین ڈالر خرچ کیے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اسپین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ناکام ملک ہے اور نیٹو کا اچھا اتحادی ثابت نہیں ہوا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی حمایت میں یورپ سے پانچ ہزار طیاروں نے پروازیں کیں۔