پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں گزشتہ چار روز کے دوران دہشت گردی کے تین بڑے واقعات پیش آئے، جن میں سیکیورٹی فورسز اور شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ جوابی کارروائیوں میں 54 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دہشت گردوں نے ہنہ اوڑک میں معصوم شہریوں پر حملہ کیا، جبکہ زیارت میں پولیس چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ زیارت میں 6 جولائی سے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری تھا، جہاں پولیس اہلکاروں نے بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے 15 دہشت گردوں کو ہلاک کیا، تاہم دہشت گردوں نے گھیرا تنگ ہونے پر 18 پولیس اہلکاروں کو شہید کردیا۔
انہوں نے بتایا کہ پہلے روز 9 اہلکار جبکہ بعدازاں مزید 18 پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آج خاران اور دالبندین میں کارروائیوں کے دوران مزید 14 دہشت گرد مارے گئے، جس کے بعد گزشتہ چار روز میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 54 ہوگئی۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ان حملوں میں مجموعی طور پر 27 پولیس اہلکار، پاک فوج کے 11 جوان اور 4 شہری شہید ہوئے، جبکہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کامیابی سے جاری ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔