چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ اور صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان کی زیر صدارت گندم اور آٹے کی قیمتوں سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکریٹری خوراک سمیت صوبے بھر کے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز اور محکمہ خوراک کے فیلڈ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ صوبے میں اس وقت 290 فلور ملز اور 1033 لائسنس یافتہ ٹریڈرز موجود ہیں، اور طے شدہ مقررہ حد سے زائد گندم رکھنا ذخیرہ اندوزی تصور ہوگی۔ اس موقع پر سندھ کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں صوبے بھر میں گندم کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور غیر قانونی طور پر ذخیرہ کی گئی گندم کو فوری ضبط کر کے سرکاری امدادی قیمت پر خریدنے کا فیصلہ کیا گیا۔
چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ ذخیرہ اندوزی کے خلاف فوری حکمت عملی تشکیل دیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کاروباری سرگرمیوں میں خلل نہیں ڈالنا چاہتی، مگر ذخیرہ اندوزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور کسی کو بھی مصنوعی قلت پیدا کر کے عوام کا استحصال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد کاروبار کو متاثر کرنا نہیں بلکہ ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو روکنا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس سلسلے میں فلور ملز مالکان کو اعتماد میں لینے کے لیے ایک علیحدہ اجلاس بھی بلایا جائے گا۔