جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ کی عدالت نے سانحہ گل پلازہ کیس میں پولیس کی جانب سے جمع کرایا گیا چالان مسترد کرتے ہوئے واقعے کی دوبارہ تفتیش کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے تنویر پاستا سمیت دیگر نامزد ملزمان کی جانب سے دائر درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
عدالت نے اپنے حکم میں واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ کی نئے سرے سے تحقیقات کے لیے ڈی ایس پی رینک کے کسی سینیئر افسر کو مقرر کیا جائے۔ عدالت نے پولیس کو پابند کیا ہے کہ اس ہولناک واقعے کی گہرائی تک پہنچنے کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو شامل تفتیش کیا جائے، جس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے)، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) اور سول ڈیفنس کے حکام شامل ہیں۔
اس کے ساتھ ہی عدالت نے حکم دیا ہے کہ واقعے کے وقت امدادی سرگرمیوں اور ٹریفک کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹریفک پولیس اور متعلقہ ریسکیو اداروں کو بھی باقاعدہ طور پر تفتیش کا حصہ بنایا جائے تاکہ سانحے کے تمام محرکات، غفلت اور ذمہ داران کا درست تعین کیا جاسکے۔