تحقیق کے بعد برٹش انڈین آرمی سے تعلق رکھنے والے نو ہزار 909 فوجیوں کے نام اب ’کامن ویلتھ وار گریوز کمیشن‘ کی جنگ کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے ڈیٹا بیس یعنی ریکارڈ میں شامل کیے جا رہے ہیں۔
پہلی عالمی جنگ کے دوران برصغیر، جس میں موجودہ انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش شامل ہیں، کے تقریباً 14 لاکھ افراد نے ’برٹش انڈین آرمی‘ میں خدمات انجام دیں۔پہلی عالمی جنگ میں خدمات انجام دیتے ہوئے جانیں قربان کرنے والے ہزاروں ہندوستانی فوجیوں کو دہائیوں تک نظرانداز رہنے کے بعد اب تقریباً 80 برس بعد پہلی بار باضابطہ طور پر خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔
جنگ میں ہونے والی ہلاکتوں کے ریکارڈ میں کی جانے والی یہ بڑی اور اہم تبدیلی اُن سپاہیوں کی قربانیوں کو تاریخی سطح پر تسلیم کرنے کا عمل قرار دی جا رہی ہے۔
محققین کی تحقیق کے بعد برٹش انڈین آرمی سے تعلق رکھنے والے 9909 فوجیوں کے نام اب ’کامن ویلتھ وار گریوز کمیشن‘ کی جنگ کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے ڈیٹا بیس یعنی ریکارڈ میں شامل کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ سے تعلق رکھنے والے رضاکاروں نے ان فوجیوں کے نام تلاش کرنے کے لیے کئی برس تک کام کیا۔ یہ نام پہلی عالمی جنگ کے فوراً بعد صوبہ پنجاب میں تیار کیے جانے والے رجسٹروں سے حاصل کیے گئے۔
اب ان فوجیوں کی قربانیوں کو باضابطہ طور پر تسلیم کیے جانے کے بعد ان کے وارثوں اور خاندانوں کا سراغ لگانے کے لیے بھی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔
فراموش کر دیے گئے پنجابی فوجیوں میں سے ایک کے وارث سنی پالیہیبرطانیہ کے شہر لیسٹر سے تعلق رکھنے والے دندان ساز سنی پالیہی کا کہنا ہے کہ ’اب یہ جد و جہد مکمل ہوئی۔ مجھے اب محسوس ہونے لگا ہے کہ میری زندگی کا ایک اہم خلا پُر ہو گیا ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ وہ کئی برسوں سے اپنے پڑدادا کے بارے میں معلومات تلاش کر رہے تھے، جن کے بارے میں انھوں نے صرف اتنا سن رکھا تھا کہ وہ پہلی عالمی جنگ میں لڑنے گئے تھے اور پھر کبھی واپس نہیں آئے۔
سنی پالیہی کے مطابق اس بارے میں تحقیق کرنے والے محققین نے ان سے رابطہ کیا اور یہ بتایا ہے کہ ان کے پڑدادا کیسر سنگھ کا نام پرانے رجسٹروں میں مل گیا ہے، جس کے بعد اب ان کے نام کو باضابطہ طور پر سرکاری فہرستوں میں شامل کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اب ایک بااختیار ادارے نے ان کی قربانی کو تسلیم کیا ہے جو پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ اب ان کا نام ’کامن ویلتھ وار گریوز کمیشن‘ کے ریکارڈ کا حصہ بن گیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہماری تمام کوششیں اور قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں۔‘
سنی پالیہی کا کہنا تھا کہ ’اُن کے پڑدادا کی خدمات کے اعتراف پر نہ صرف خوشی ہے بلکہ اس بات پر انھیں فخر بھی ہے کہ اب وہ خود کو پہلی عالمی جنگ میں خدمات انجام دینے والوں سے وابستہ عالمی برادری کا حصہ سمجھتے ہیں۔‘
برصغیر جس میں آج کے انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش شامل ہیں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 14 لاکھ افراد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے پہلی عالمی جنگ کے دوران برٹش انڈین آرمی میں خدمات سر انجام دیں۔
جنگ کے بعد کے برسوں میں حکام نے پنجاب کے ہر شہر اور گاؤں کا دورہ کیا تاکہ صرف اسی صوبے سے تعلق رکھنے والے تین لاکھ 20 ہزار فوجیوں کے نام اور ان کے ساتھ کیا ہوا اس بارے میں معلومات کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جا سکے۔
سنہ 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد ہندوستان کا صوبہ پنجاب بھی انڈیا اور پاکستان کے درمیان تقسیم ہو گیا۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے عجائب گھر میں اب درجنوں پھٹے پرانے، نازک حالت میں چمڑے کی جلد والے ایسے رجسٹر محفوظ حالت میں موجود ہیں کہ جن میں ہاتھ سے لکھا جانے والا ریکارڈ آج بھی موجود ہے ان میں سے ہر ایک رجسٹر پر کسی نہ کسی شہر کا یا گاؤں کا نام درج ہے۔
اس تمام ریکارڈز کو ڈیجیٹلائز کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے کا منصوبہ برطانیہ کی ’پنجاب ہیریٹیج ایسوسی ایشن‘ کے ارکان نے شروع کیا جس میں کئی برس لگے۔
لاہور میوزیم پاکستان میں محفوظ 'پنجاب رجسٹرز' کے اندر ہاتھ سے لکھے گئے ریکارڈ میں مختلف اضلاع کے فوجیوں کی تفصیلات درج ہیں۔اس تحقیق میں شامل یونیورسٹی آف گرینچ سے تعلق رکھنے والی پی ایچ ڈی طالبہ جیسمین بسرا کا کہنا ہے کہ ’ایک پنجابی ہونے کے ناطے مجھے فخر ہے کہ میں اپنی کمیونٹی کے لیے یہ کام کر رہی ہوں۔‘
تحقیق کے دوران جیسمین بسرا کو غیر متوقع طور پر اپنے دو رشتہ داروں کے نام بھی ملے، جن میں ان کے پڑدادا اور ان کے پڑدادا کے بھائی شامل تھے جو پہلی عالمی جنگ میں برٹش انڈین آرمی کا حصہ تھے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ تعلق ان کے لیے جذباتی اہمیت کا حامل ہے۔ دوسری نسل کی برطانوی پنجابی ہونے کے باعث پنجاب اور برطانوی تاریخ دونوں سے دوری محسوس ہوتی ہے۔‘ تاہم ان کے مطابق ’یہ سلسلہ دونوں جانب سے تعلق اور رشتے کو زندہ کرنے کا ایک واضح اور مضبوط ذریعہ بن سکتا ہے۔‘
رضاکاروں کی جانب سے کی جانے والی تحقیق کو ’کامن ویلتھ وار گریوز کمیشن‘ نے نہ صرف سراہا ہے بلکہ اس پر مزید کام کرتے ہوئے اسے اپنے ریکارڈ میں شامل بھی کر لیا ہے۔ کمیشن نے اب دوسری عالمی جنگ کے بعد اپنی تاریخ کی سب سے بڑی اپ ڈیٹ جاری کی ہے۔
لاہور میوزیم، پاکستان میں موجود ’پنجاب رجسٹرز‘ وہ کتابیں ہیں جن سے یہ ریکارڈ تیار کیا گیا ہے۔کمیشن کے مورخین کے مطابق پہلے جن نو ہزار 909 فوجیوں کو یادگاری فہرستوں میں شامل نہیں کیا گیا تھا ان میں زیادہ تر وہ اہلکار تھے جو میدانِ جنگ کے بجائے زخمی ہو جانے کے باعث بعد میں ہلاک ہوئے۔
ہندوستان کی حکومت کے اُس وقت کے فیصلوں کے باعث ان فوجیوں کو جنگ میں ہلاک ہونے والوں کے سرکاری درجے ’وار گریوز سٹیٹس‘ نہیں دیا گیا تھا، تاہم اب یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے اور ان کی قربانی کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔
پہلی عالمی جنگ کے جن ہزاروں فوجیوں کے تفصیلات سامنے آئی ہیں اُن میں سے تقریباً 25 فیصد سکھ، 25 فیصد ہندو اور لگ بھگ 40 فیصد مسلمان تھے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پہلی عالمی جنگ میں ہندوستان کی مختلف برادریوں نے نمایاں حصہ لیا اور کردار ادا کیا تھا۔
’کامن ویلتھ وار گریوز کمیشن‘ کا کہنا ہے کہ ان ناموں کو شامل کرنے کا مقصد صرف اُن افراد کی قربانی کو محفوظ کرنا نہیں جنھوں نے جان دی، بلکہ پہلی عالمی جنگ کے بارے میں یورپی نقطۂ نظر کے غلبے کو کم کرنے اور اسے زیادہ جامع بنانے کی وسیع کوشش کا حصہ بھی ہے۔
کمیشن کے مطابق یادگار اور خراجِ عقیدت کا عمل اس جنگ کی مکمل عالمی حقیقت کی عکاسی کرنا چاہیے۔