امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ شہر کا انفراسٹرکچر تباہ حال، سیوریج کا نظام درہم برہم اور شہری مہنگے داموں ٹینکر کے ذریعے پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے مطالبے کے لیے کل جمعہ کو کراچی کے 11 مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔
ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی میں جرائم پر قابو نہیں پایا جا سکا اور شہر کی صورتحال دن بدن بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے مئیر کراچی کی کارکردگی کو منفی زون قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی مسائل حل کرنے کے بجائے عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عباسی شہید اسپتال کے ڈاکٹرز واجبات کی عدم ادائیگی پر احتجاج کر رہے ہیں اور ان کی تنخواہوں کی ادائیگی مئیر کراچی کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپتال کے مختلف شعبے بند ہو رہے ہیں جبکہ عدالت کے حکم کے باوجود اسپتال کے احاطے میں فارمیسی کے معاملے پر بھی عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ حکومت کراچی کو پیرس بنانے کے دعوے کرتی ہے مگر شہر کے 44 بڑے برساتی نالوں کی صفائی تک نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ کے فور منصوبے پر کوئی مؤثر پیش رفت نہیں ہو رہی اور اس کی تکمیل کی تاریخ 2029 تک بڑھا دی گئی ہے جبکہ دھابیجی میں آئے روز پائپ لائن پھٹنے کے واقعات شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔