آزاد جموں و کشمیر حکومت نے امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے انتشار پھیلانے والے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کالعدم ایکشن کمیٹی سے وابستہ قانون شکن افراد کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل درآمد شروع کردیا ہے۔
حکومتی فیصلے کے تحت کالعدم ایکشن کمیٹی سے وابستہ افراد کے خلاف درج مقدمات کی واپسی کا نوٹیفکیشن منسوخ کردیا گیا ہے، جس کے بعد متعلقہ مقدمات دوبارہ فعال ہوگئے ہیں۔
پولیس کے مطابق نوٹیفکیشن کی منسوخی کے بعد میرپور پولیس نے قانونی کارروائی کا دوبارہ آغاز کردیا ہے۔ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملوں سے متعلق مقدمات بحال کردیے گئے ہیں، جبکہ نامزد ملزمان کی گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
آزاد جموں و کشمیر پولیس کا کہنا ہے کہ تھانہ ڈڈیال میں 2024 کے دوران اسسٹنٹ کمشنر اور پولیس اہلکاروں پر حملے سے متعلق مقدمہ بھی دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ مقدمے میں نامزد متعدد افراد کو گرفتار کرکے تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کیا جارہا ہے۔
پولیس کے مطابق کالعدم تنظیم کے مبینہ سرغنہ مہران کے قریبی ساتھی ظہیر سمیت چھ ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جبکہ دیگر مطلوب ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں۔