اسکول لیول سے نکلنے والے کھلاڑیوں کا مستقبل روشن ہوگا: مصباح الحق اور اسامہ شارون

image

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے قومی اسکول کرکٹ کے لیے 'پی سی بی ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام فار اسکولز' کے دوسرے سیزن (2026-27) کا باضابطہ اعلان کردیا ہے۔ اس سلسلے میں پی سی بی کے سینئر جنرل مینیجر ڈومیسٹک کرکٹ آپریشنز اسامہ شارون نیازی اور ممبر سلیکشن کمیٹی مصباح الحق نے لاہور میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

ترجمان کے مطابق، ٹورنامنٹ کے پہلے سیزن میں 39 اضلاع کے 450 اسکولوں اور 6 ہزار طلباء نے حصہ لیا تھا، تاہم دوسرے سیزن میں دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے اضلاع کی تعداد 100 جبکہ اسکولوں کی تعداد 1200 کر دی گئی ہے، جس میں ملک بھر سے تقریباً 18 ہزار طلباء شرکت کریں گے۔ ٹیلنٹ ہنٹ کا عمل 30 جولائی تک مکمل کیا جائے گا، جس کے بعد اسکروٹنی اور 10 اگست سے ٹریننگ کیمپس کا آغاز ہوگا۔ ٹورنامنٹ 15 ستمبر سے شروع ہوگا، جو ضلعی، ڈویژنل، صوبائی اور قومی سطح پر چار مختلف مراحل میں کھیلا جائے گا۔ ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو پی سی بی کی انڈر 15، انڈر 17 اور انڈر 19 اکیڈمیز میں مدعو کیا جائے گا۔ پی سی بی تمام شریک اسکولوں کو تکنیکی مدد فراہم کرے گا، جبکہ سرکاری اسکولوں کو مکمل مالی معاونت دی جائے گی اور پرائیویٹ اسکولز اپنے اخراجات خود برداشت کریں گے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسامہ شارون نیازی کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کا مقصد کم عمری میں ہی چھپے ہوئے ٹیلنٹ کو تلاش کرنا ہے، کیونکہ دنیا بھر کے عظیم کھلاڑیوں جیسے برائن لارا اور مرلی دھرن نے اسکول لیول سے ہی کیریئر کا آغاز کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے کپتان بابر اعظم نے بھی اسکول کرکٹ سے شروعات کی تھی اور وہ اس میں ٹاپ اسکورر رہے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایک طویل المیعاد منصوبہ ہے جس کے تحت پاکستان کے ہر کونے سے ٹیلنٹ ڈھونڈ کر پی سی بی کی 16 ریجنل اکیڈمیز میں ان پرفارمرز کی بنیادی کوچنگ کی جائے گی۔

اس موقع پر مصباح الحق کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں عموماً یا تو صرف کرکٹ پر توجہ دی جاتی ہے یا مکمل پڑھائی پر، لیکن بچوں کی صحت اور تعلیم دونوں ایک ساتھ انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو کھلاڑی اسکول کرکٹ کے نظام سے آئیں گے، ان کے لیے مستقبل میں پیشہ ورانہ کرکٹ کھیلنا زیادہ آسان ہوگا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US