پاک بھارت کشیدگی: 'دی ہنڈریڈ' میں ابرار احمد کی شمولیت پر بھارتی مالکن کاویہ مارن کا تبصرہ سے انکار

image

دی ہنڈریڈ ٹورنامنٹ کی ٹیم 'سن رائزرز لیڈز' کی بھارتی مالکن، کاویہ مارن نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے کہ ان کی فرینچائز نے اس ٹورنامنٹ کے لیے پاکستانی اسپنر ابرار احمد کو کیوں سائن کیا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان اور بھارت کے تعلقات کیشیدہ ترین سطح پر ہیں اور دونوں ممالک کے کرکٹ بورڈز آئی سی سی (ICC) اور اے سی سی (ACC) کے ایونٹس میں بھی ایک دوسرے کے ملک میں نہیں کھیلتے، مکمل طور پر بھارتی ملکیت والی فرینچائز کی جانب سے ابرار کی شمولیت پر بھارت میں شدید ردِعمل اور احتجاج دیکھنے میں آیا ہے۔

چنئی میں 'سن گروپ آف کمپنیز' کی سربراہی کرنے والی کاویہ مارن، انگلینڈ کے دی ہنڈریڈ ٹورنامنٹ میں سن رائزرز لیڈز فرینچائز کی 100 فیصد مالکانہ حقوق رکھتی ہیں، جس کے لیے انہوں نے انگلش کرکٹ بورڈ سے 51 فیصد شیئرز اور بعد ازاں یارکشائر کلب سے 49 فیصد شیئرز حاصل کیے۔

جب کچھ ماہ قبل سن رائزرز لیڈز نے ابرار کو سائن کیا تھا تو مارن اور ان کی آئی پی ایل (IPL) فرینچائز 'سن رائزرز حیدرآباد' کے خلاف شدید احتجاج ہوا تھا۔

'دی ٹیلی گراف' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جب مارن سے ابرار کی شمولیت سے متعلق سوال پوچھا گیا تو انہوں نے اس سوال کو یہ کہہ کر نظر انداز کر دیا کہ چونکہ یہ ایک سیاسی طور پر حساس معاملہ ہے، اس لیے وہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گی۔ مارن نے کہا کہ ان کے تکنیکی عملے نے دی ہنڈریڈ کے لیے بہترین ممکنہ کھلاڑیوں کو سائن کیا ہے۔

مارن سمیت چار آئی پی ایل فرینچائزز کے مالکان نے دی ہنڈریڈ میں ٹیمیں خریدی ہیں۔ اس کے علاوہ مارن جنوبی افریقی ٹی 20 لیگ میں بھی ایک ٹیم کی مالکن ہیں۔ دو دیگر پاکستانی کھلاڑی—اسپنر عثمان طارق اور قومی خواتین ٹیم کی کپتان فاطمہ ثناء—بھی اس سال دی ہنڈریڈ میں کھیل رہے ہیں۔

آئی پی ایل فرینچائزز پاکستانی کھلاڑیوں کو شامل نہیں کرتیں، جبکہ دیگر لیگز میں بھی جہاں بھارتی مالکان کی ٹیمیں موجود ہیں، وہاں کا عمومی اصول پاکستانی کھلاڑیوں کو نظر انداز کرنا ہے، یہی وجہ ہے کہ مارن کی جانب سے ابرار کو سائن کیے جانے پر شدید اعتراضات اور ہنگامہ کھڑا ہوا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US