سری لنکا کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کے لیے بھارتی ٹیسٹ اسکواڈ کے اعلان نے قومی ٹیم میں کھلاڑیوں کے انتخاب پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ گوتم گمبھیر کے بطور ہیڈ کوچ اور اجیت اگارکر کے چیف سلیکٹر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے کچھ مستحق مسلمان کھلاڑیوں کو مسلسل نظر انداز کیے جانے پر تنقید کی جا رہی ہے۔
گزشتہ سال رنجی ٹرافی میں 60 وکٹیں لے کر اپنی ٹیم کو چیمپئن بنانے والے کشمیری فاسٹ باؤلر عاقب نبی کو آئرلینڈ، انگلینڈ اور اب سری لنکا کے دورے سے باہر رکھا گیا ہے۔ اسی طرح 300 سے زائد ٹیسٹ وکٹیں لینے والے تجربہ کار فاسٹ باؤلر محمد شامی گھریلو کرکٹ میں مکمل فٹنس اور بہترین کارکردگی کے باوجود سلیکٹرز کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ باصلاحیت بلے باز سرفراز خان اور تیز باؤلر عمران ملک کو بھی مسلسل نظر انداز کرنے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
اگرچہ محمد سراج کو سری لنکا کے خلاف سیریز کے لیے اسکواڈ کا حصہ بنایا گیا ہے، تاہم گرنور برار، ہرشت رانا، مینک یادو اور یش ٹھاکر جیسے کم تجربہ کار باؤلرز کو شامی اور عاقب نبی پر ترجیح دینے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ماضی میں سورو گنگولی، ایم ایس دھونی، وراٹ کوہلی اور روہت شرما کے ادوار میں ظہیر خان، عرفان پٹھان، مناف پٹیل اور شامی جیسے کھلاڑیوں کو باقاعدگی سے مواقع ملتے رہے ہیں، تاہم موجودہ سیٹ اپ میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کے لیے مواقع محدود دکھائی دے رہے ہیں۔