پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا نے سری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز میں شکست پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیریز کا آغاز اچھا تھا لیکن اس کے بعد کارکردگی توقع کے مطابق نہیں رہی، تاہم ٹیم اس سے مثبت پہلو سیکھ کر آگے بڑھے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پچ بیٹنگ کے لیے سازگار تھی لیکن وہ اس طرح بیٹنگ نہیں کرسکے جیسا کرنا چاہیے تھا، اگر سینئرز کے بعد جونیئرز کو موقع ملے تو انہیں اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔
کپتان نے پاور پلے میں گل فیروزہ اور صدف شمس کے آغاز، سدرہ امین کی اننگز بنانے کی کوشش اور منیبہ علی کی پانچویں نمبر پر بیٹنگ کی تعریف کی۔ باؤلنگ کے شعبے میں انہوں نے ام ہانی اور نشرہ سندھو کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ نوجوان باؤلرز جتنی جلد بہتری لائیں گی اتنا ہی ٹیم کے لیے فائدہ مند ہوگا۔
فاطمہ ثنا نے بتایا کہ ٹیم میں ہر کھلاڑی کا رول واضح کردیا گیا ہے اور جب ٹیم میں تجربات کیے جاتے ہیں تو بعض اوقات ناکامی بھی ملتی ہے، اس لیے انہوں نے کھلاڑیوں اور شائقین کو صبر اور مثبت سوچ اپنانے کا پیغام دیا ہے۔
"دی ہنڈرڈ" میں شرکت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فاطمہ ثنا نے پرجوش ہونے کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ ان کی اچھی کارکردگی سے دیگر پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے بھی راستے کھلیں گے۔ انہوں نے آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے نوجوان اور نئی کھلاڑیوں کو خود پر اعتماد رکھ کر کھیلنے اور کھیل سے لطف اندوز ہونے کا مشورہ دیا۔