پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کے امور چلانے کے لیے قائم کی گئی عبوری کمیٹی نے قومی کھلاڑیوں کے حقوق اور تحفظ کی خاطر اہم اقدام اٹھاتے ہوئے پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی)، وزارتِ بین الصوبائی رابطہ (آئی پی سی)، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور بین الاقوامی کھیلوں کے اداروں کو باضابطہ مراسلے ارسال کر دیے ہیں۔
چیئرمین عبوری کمیٹی بریگیڈیئر (ر) زاہد اقبال کی جانب سے ڈی جی پی ایس بی، سیکریٹری آئی پی سی اور وفاقی وزیرِ کھیل کو بھیجے گئے خطوط کی کاپیاں انٹرنیشنل ویٹ لفٹنگ فیڈریشن (آئی ڈبلیو ایف)، عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا)، انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (آئی او سی) اور ایشین ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کو بھی روانہ کی گئی ہیں۔
مراسلے میں عبوری کمیٹی نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور 60 سے زائد قومی کھلاڑیوں کو جاری کیے گئے تمام غیر قانونی شوکاز نوٹسز کو مسترد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پی ایس بی اور آئی پی سی سے جعل ساز عناصر کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی اپیل کی ہے۔
کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ بہترین ویٹ لفٹرز فرقان احمد اور سحر وائیں سمیت تمام ایتھلیٹس کے مستقبل اور کیریئر کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔
خط میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ معطل فیڈریشن کے کرپٹ عناصر پر فوری پابندی لگا کر اپنی رٹ بحال کی جائے اور آئی ڈبلیو ایف کی جانب سے عائد کردہ عالمی جرمانہ ڈوپنگ کی خلاف ورزیوں میں ملوث معطل عہدیداروں کی جیب سے ہی وصول کیا جائے۔
عبوری کمیٹی نے پاک صاف اور بے گناہ کھلاڑیوں کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ انٹرنیشنل فیڈریشن سے عارضی منظوری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات پر زور دیا ہے۔