عبداللہ شفیق کی سنچری، بابر اعظم کی فارم میں واپسی اور سیالکوٹ کا چرچا

پورٹ آف سپین کے کوئنز پارک اوول میں کھیلے جا رہے پہلے ٹیسٹ کے دوسرے روز پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے 344 رنز کے جواب میں دو وکٹوں کے نقصان پر 266 رنز بنائے اور اب اسے پہلی اننگز کا سکور برابر کرنے کے لیے مزید 78 رنز کی ضرورت ہے۔

پورٹ آف سپین میں دوسرے روز کا کھیل پاکستان کے نام رہا۔۔۔ جہاں عبداللہ شفیق نے ناقدین کو سنچری سے جواب دیا وہیں بابر اعظم بھی فارم میں واپس نظر آئے اور ویسٹ انڈیز کے باؤلرز کو دن بھر بے بس بنائے رکھا۔

عبداللہ شفیق نے ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کو یادگار بناتے ہوئے اپنے کیریئر کی چھٹی ٹیسٹ سنچری سکور کی جبکہ بابر اعظم دسمبر 2022 میں نیوزی لینڈ کے خلاف 161 رنز کی اننگز کے بعد آج اپنا سب سے بڑا ٹیسٹ سکور بنانے میں کامیاب رہے۔

دن کے اختتام پر عبداللہ شفیق 107 رنز بنا کر جبکہ بابر اعظم 86 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ تھے۔ دونوں کے درمیان تیسری وکٹ کی شراکت 168 رنز تک پہنچ چکی تھی۔

پورٹ آف سپین کے کوئنز پارک اوول میدان میں کھیلے جا رہے پہلے ٹیسٹ کے دوسرے روز پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے 344 رنز کے جواب میں دو وکٹوں کے نقصان پر 266 رنز بنائے اور اب اسے پہلی اننگز کا سکور برابر کرنے کے لیے مزید 78 رنز کی ضرورت ہے۔

اس سے قبل ویسٹ انڈیز نے اپنی پہلی اننگز میں 344 رنز بنائے تھے۔ میزبان ٹیم کی جانب سے جسٹن گریوز 73 اور کپتان روسٹن چیز 70 رنز کے ساتھ نمایاں رہے، جبکہ برینڈن کنگ نے 46 اور شائی ہوپ نے 29 رنز سکور کیے۔

پاکستان کی جانب سے ساجد خان سب سے کامیاب باؤلر رہے جنھوں نے 85 رنز دے کر چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ محمد علی، علی عثمان اور عبید شاہ نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔

’بابر اعظم اور عبداللہ شفیق کو ایک ساتھ بیٹنگ کرتے دیکھنا بلے بازی کے حسن کی معراج ہے‘

پاکستانی اننگز کا آغاز محتاط انداز میں ہوا لیکن امام الحق صرف 14 رنز بنا کر شمر جوزف کا شکار بن گئے۔ اس کے بعد اذان اویس اور عبداللہ شفیق نے دوسری وکٹ کے لیے 64 رنز بنائے۔ اوپنر اذان اویس نے اپنی پہلی ٹیسٹ نصف سنچری بنائی، ان کے 55 رنز میں 10 چوکے شامل تھے۔

اذان اویس کے آؤٹ ہونے کے بعد عبداللہ شفیق اور کپتان بابر اعظم ویسٹ انڈیز کے باؤلرز پر حاوی رہے۔

دونوں نے ذمہ دارانہ اور پراعتماد بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے تیسری وکٹ کے لیے ناقابل شکست 168 رنز کی شراکت قائم کی۔ عبداللہ شفیق نے 185 گیندوں پر 107 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جس میں 10 چوکے اور دو چھکے شامل تھے، جبکہ بابر اعظم 126 گیندوں پر 86 رنز بنا کر کریز پر موجود ہیں اور اپنی سنچری سے صرف 14 رنز دور ہیں۔

دن کے اختتام پر پاکستان کا سکور 66 اوورز میں 266 رنز تھا اور اس کی صرف دو وکٹیں گری تھیں۔ موجودہ صورتحال میں میچ کا پلڑا پاکستان کی جانب جھکتا دکھائی دیتا ہے، کیونکہ عبداللہ شفیق اور بابر اعظم نہ صرف سیٹ ہوچکے ہیں بلکہ ویسٹ انڈیز کی پہلی اننگز کے سکور سے محض 78 رنز دور ہیں۔

اگر دونوں بلے باز تیسرے روز اپنی شراکت جاری رکھنے میں کامیاب رہے تو پاکستان پہلی اننگز میں نمایاں برتری حاصل کرسکتا ہے۔

کرکٹ اعداد و شمار اور ریکارڈز پر نظر رکھنے والے مظہر ارشد نے عبداللہ شفیق اور بابر اعظم کی شراکت کو سراہتے ہوئے ایکس پر لکھا: ’بابر اعظم اور عبداللہ شفیق کو ایک ساتھ بیٹنگ کرتے دیکھنا بلے بازی کے حسن کی معراج ہے۔‘

سیالکوٹ کی ادبی روایت اور ’کتابی‘ عبداللہ شفیق، این بشپ کا دلچسپ تبصرہ

میچ کے دوران ویسٹ انڈیز کے سابق فاسٹ باؤلر اور معروف کرکٹ کمنٹیٹر این بشپ نے عبداللہ شفیق اور بابر اعظم کی بیٹنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے سیالکوٹ کا ذکر بھی کیا۔

انھوں نے کہا کہ ’کریز پر موجود ان دونوں بلے بازوں کے بارے میں دراصل ایک دلچسپ کہانی ہے۔ میں نے سیالکوٹ کے بارے میں سیموئل بدری سے بہت کچھ سنا ہے۔ سیالکوٹ بہترین شاعروں اور ادیبوں کی سرزمین بھی ہے۔ علامہ محمد اقبال، فیض احمد فیض اور پروین شاکر اسی شہر سے تعلق رکھتی ہیں۔‘

’اور دلچسپ بات یہ ہے کہ عبداللہ شفیق کا نک نیم یا لقب ’کتابی‘ ہے، یعنی کتابوں کا شوقین۔ یہ لقب انھیں ان کی تحریروں یا کتابیں پڑھنے کی عادت کی وجہ سے نہیں ملا، بلکہ بابر اعظم نے انھیں یہ نام دیا ہے۔ اس کی وجہ سیالکوٹ کی ادبی روایت بھی نہیں، بلکہ ان کی بیٹنگ تکنیک کا بالکل نصابی (ٹیکسٹ بک) ہونا ہے۔‘

ایان نے مزید کہا کہ ’ان کی تکنیک انتہائی صاف ستھری اور مکمل دکھائی دیتی ہے۔ یوں عبداللہ شفیق اپنے انداز میں سیالکوٹ کی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں، جو اس شہر کی بہترین روایات میں سے ایک ہے۔ اسی لیے یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ یہ شراکت آگے کس طرح پروان چڑھتی ہے۔‘

عبداللہ شفیق نے ’کلاسک سنچری سکور کرکے اپنے ناقدین کو خاموش کر دیا‘

سوشل میڈیا پر عبداللہ شفیق کی سینچری اور شاندار بلے بازی پر کرکٹ شائقین انھیں داد دے رہے ہیں۔

ایک کے نامی صارف نے لکھا ’عبداللہ شفیق بہترین کلاس، نفاست اور شاندار بلے بازی کی بہترین مثال ہیں۔ کیا زبردست کم بیک ہے۔‘

’واپسی کی پہلی ہی اننگز میں انھوں نے ایک کلاسک سنچری سکور کرکے اپنے ناقدین کو خاموش کر دیا ہے۔‘

صحافی ساجد صادق نے کہا کہ عبداللہ شفیق کا انٹرنیشنل کیریئر اُن لوگوں کی وجہ سے متاثر ہوا جنھوں نے انھیں تینوں فارمیٹس کا بلے باز سمجھ لیا تھا۔

ان کے مطابق ’عبداللہ شفیق کو ایک عمدہ ٹیسٹ بلے باز کے طور پر خود کو منوانے اور اس فارمیٹ میں اپنی صلاحیتیں ثابت کرنے کا موقع دینے کے بجائے انھیں محدود اوورز کی کرکٹ کا بلے باز بنانے کی کوشش کی گئی، جو بالآخر ناکامی کا نسخہ ثابت ہوا۔‘

میاں احمد نے عبداللہ کی بیٹنگ کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ’بہترین ٹائمنگ، بہترین کلاس۔ عبداللہ شفیق اس وقت کریز پر مکمل اعتماد اور کنٹرول کے ساتھ بیٹنگ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔‘

زوحا نامی صارف نے لکھا ’صبر، ثابت قدمی، یقین اور بے پناہ محنت۔ آج کا یہ لمحہ عبداللہ شفیق کے نام ہے۔ یہ کتنی خوبصورت اننگز تھی، اور اس کا اختتام بھی کسی شاعرانہ منظر سے کم نہیں تھا؛ پورے اوور میں حریفوں کے طنزیہ جملوں کا سامنا کرنے کے بعد عبداللہ شفیق نے آخری گیند پر چوکا لگا کر اپنی سنچری مکمل کی۔‘

ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں آٹھ وکٹیں لینے والے محمد عباس کو بابر اعظم نے دوسرے میچ میں کیوں نہیں کھلایا؟

اس سے قبل سوشل میڈیا پر پاکستان کرکٹ ٹیم کی جانب سے ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں محمد عباس کو ڈراپ کرنے پر خاصا ردِعمل دیکھا گیا۔

ایک صارف نے لکھا ’شاندار فارم کے باوجود عباس کو ڈراپ کر دیا گیا۔ پی سی بی اپنے ہی پیر پر کلہاڑی مارنے کا ماہر ہے۔۔عباس نے پہلے ٹیسٹ میں آٹھ وکٹیں لیں، مخالف بیٹرز اُنھیں کھیل نہیں پا رہے تھے۔۔وہ ایسے بولر ہیں کہ جنھیں آپ ہر کنڈیشن میں کھیلا سکتے ہیں۔‘

دوسرے ٹیسٹ میچ کے پہلے روز ویسٹ انڈیز نے پانچ وکٹوں کے نقصان پر 239 رنز بنائے، لیکن محمد عباس کو ڈراپ کرنے پر بحث کا سلسلہ جاری رہا۔

خیال رہے کہ پہلے ٹیسٹ میچ میں ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو 90 رنز سے شکست دے دی تھی، یوں دوسرا اور آخری ٹیسٹ پاکستان کے لیے سیریز میں شکست سے بچنے کا آخری موقع ہے۔

Pakistan Cricket
Getty Images
محمد عباس نے ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں آٹھ وکٹیں حاصل کی تھیں، لیکن دوسرے ٹیسٹ میچ میں اُنھیں ڈراپ کر دیا گیا

’ہم نے کنڈیشنز دیکھ کر یہ فیصلہ کیا‘

پورٹ آف سپین میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے چار تبدیلیاں کیں۔ پہلے ٹیسٹ میچ میں انجری کا شکار ہونے والے سابق کپتان شان مسعود کی جگہ عبداللہ شفیق کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔

آل راؤنڈر عامر جمال کی جگہ مڈل آرڈر بلے باز اویس ظفر کو شامل کیا گیا، خرم شہزاد کی جگہ سپنر ساجد خان نے فائنل الیون میں جگہ بنائی۔

لیکن سب سے حیران کن تبدیلی پہلے ٹیسٹ میچ میں آٹھ وکٹیں لینے اور حریف بیٹرز کو مشکل میں ڈالنے والے محمد عباس کی جگہ عبید شاہ کو شامل کرنا تھا۔

عبید شاہ ٹیسٹ کرکٹر نسیم شاہ کے بھائی ہیں۔ اویس ظفر اور عبید شاہ دونوں پاکستان کے لیے اپنا ٹیسٹ ڈیبو کر رہے ہیں۔

ٹاس کے موقع پر جب کپتان بابر اعظم سے محمد عباس کو ڈراپ کرنے سے متعلق سوال ہوا تو اُنھوں نے کہا کہ پچ اور کنڈیشنز کو دیکھ کر یہ فیصلہ کیا گیا۔

محمد عباس پاکستان کی جانب سے سب سے اچھی بولنگ اوسط کے ساتھ وکٹیں حاصل کرنے میں سرِفہرست ہیں۔ پاکستان کے سابق کپتان عمران خان، وسیم اکرم اور وقار یونس بھی محمد عباس سے پیچھے ہیں۔

’یہ ناقابلِ یقین ہے‘

محمد عباس کو ڈراپ کرنے پر زیادہ تر تجزیہ کار اور صارفین پاکستان کرکٹ ٹیم انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں، تاہم کچھاس فیصلے کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔

سپورٹس تجزیہ کار اور کرک انفو کے ایڈیٹر عثمان سمیع الدین نے گذشتہ 10 برس کے دوران محمد عباس کی بولنگ کے اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ پچھلے 10 سال کے دوران محمد عباس ہر طرح کی کنڈیشنز میں پاکستان کے سب سے کامیاب بولر رہے ہیں۔

پاکستان سپر لیگ فرنچائز ملتان سلطانز کے سابق مالک علی ترین نے ایکس پر لکھا کہ شاندار فارم کے باوجود عباس کو ڈراپ کر دیا گیا۔ پی سی بی ’اپنے ہی پیر پر کلہاڑی مارنے‘ کا ماہر ہے۔

بہرام قاضی نامی صارف نے لکھا کہ ’میں عبید شاہ کے ٹیسٹ ڈیبو کے حق میں ہوں، تاہم محمد عباس کو بینچ پر بٹھانا سمجھ سے باہر ہے۔‘

باسط سبحانی نامی صارف نے لکھا کہ ’یہ ناانصافی اور ایک سنگین غلطی ہے۔ پہلے ٹیسٹ میں اُنھوں نے نہ صرف آٹھ وکٹیں لیں، بلکہ اُنھوں نے دلیری سے بلے بازی بھی کی۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ محمد عباس نے اب تک ویسٹ انڈیز میں چھ ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں اور 18.24 کی اوسط سے وہ 29 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔

صارف بھرت راما راج نے ایکس پر لکھا کہ ہر وہ بولر جو 120 سے 125 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کراتا ہے، ٹیسٹ کرکٹ میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ لیکن عباس کا گیند پر کنٹرول محض ’اچھا‘ نہیں بلکہ ’مثالی‘ ہے۔

’انھیں پاکستان کے لیے ہر ٹیسٹ میچ کھیلنا چاہیے۔ وہ طویل سپیلز کرانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں اور ساتھ ہی ایک پرجوش کرکٹر بھی ہیں۔‘

سپورٹس جرنلسٹ دانیال رسول نے ایکس پر لکھا کہ ایک اعداد و شمار اس بات کی بہترین عکاسی کرتا ہے کہ عباس کو ٹیم سے ڈراپ کیا جانا کتنا غیر معمولی واقعہ ہے۔

اُن کے بقول اس سے قبل ایک ہی سیریز کے دوران پانچ وکٹیں لینے کے باوجود ٹیم سے باہر کیے جانے والے واحد پاکستانی بولر احتشام الدین تھے، جنھوں نے 1980-1979 میں انڈیا کے دورے کے دوران کانپور میں پانچ وکٹیں لینے کے بعد چنئی میں عمران خان کے لیے جگہ چھوڑی تھی۔

عامر ملک نامی صارف نے محمد عباس کو ڈراپ کرنے پر لکھا کہ ’یہ ناقابلِ یقین ہے کہ آپ ایسے وکٹ ٹیکر کو ہی باہر کر دیتے ہیں کہ جس کا ریکارڈ یہ ہے کہ جنھوں نے سلو پچز پر بھی وکٹوں کے ڈھیر لگائے ہیں۔‘

صحافی ارفع فیروز زکی نے ایکس پر لکھا کہ ’پہلے ٹیسٹ میں شاندار کارکردگی کے باوجود محمد عباس کو ٹیم سے باہر رکھنا ٹیم انتظامیہ کے لیے ایک مشکل فیصلہ تھا۔ تاہم انھیں ٹیم میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا کہ سست پچ پر ان کی میڈیم پیس بولنگ کم مؤثر ثابت ہو گی۔‘

Pakistan Cricket
Getty Images

محمد عباس کا ٹیسٹ کریئر

سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے 36 سالہ محمد عباس پاکستان کے لیے 30 ٹیسٹ میچز میں 118 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔

اُنھوں نے پاکستان کے لیے سنہ 2017 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کنگسٹن میں اپنا ٹیسٹ ڈیبو کیا تھا۔

اُن کی بولنگ اوسط 22.38 ہے جبکہ اُنھوں نے صرف 2.50 کے اکانومی ریٹ سے رنز دیے ہیں۔ وہ سات مرتبہ ایک اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔

بنگلہ دیش کے خلاف حالیہ دو ٹیسٹ میچز کی سیریز میں بھی وہ پاکستان کے سب سے کامیاب بولر رہے تھے۔ اُنھوں نے دونوں ٹیسٹ میچز میں 10 وکٹیں حاصل کی تھیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US