کامن ویلتھ گیمز میں ارشد ندیم کی ناکامی: شائقین کی تنقید اور اسپورٹس نظام پر سوالات

image

گلاسگو میں جاری کامن ویلتھ گیمز کے جیولن تھرو ایونٹ میں دفاعی چیمپئن اور اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم کی غیر متوقع ناکامی پر شائقین، مداحوں اور صحافیوں کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے، جبکہ اس واقعے نے ملک میں کھیلوں کے موجودہ نظام کی کمزوریوں کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔

ارشد ندیم کامن ویلتھ گیمز سے قبل سوئٹزرلینڈ میں صرف ایک تیاری کے مقابلے میں شریک ہوئے تھے اور انہوں نے اپنا زیادہ تر وقت کسی غیر ملکی کوچ یا ٹرینر کے بغیر لاہور کی گرمی میں انفرادی طور پر مشق کرتے ہوئے گزارا۔

اس کے برعکس ان کے بھارتی حریف نیرج چوپڑا نے سوئٹزرلینڈ میں کیمپ لگایا اور دیگر بھارتی ایتھلیٹس نے پولینڈ میں غیر ملکی کوچز کے ساتھ تربیت حاصل کی، جس کے نتیجے میں بھارت نے ایونٹ میں سلور اور برانز میڈل حاصل کیے۔

برمنگھم کامن ویلتھ گیمز 2022 میں 90.12 میٹر کی ریکارڈ تھرو سے گولڈ میڈل جیتنے اور اولمپکس میں 92.97 میٹر کی تاریخی تھرو کرنے والے ارشد ندیم گلاسگو کے فائنل میں ایک بار بھی 80 میٹر کا ہندسہ عبور کرنے میں ناکام رہے اور پہلے آٹھ کھلاڑیوں کے فائنل راؤنڈ کی دوڑ سے باہر ہو گئے۔

ارشد ندیم کے دیرینہ کوچ سلمان بٹ نے اعتراف کیا ہے کہ ارشد کامن ویلتھ گیمز میں اپنی بہترین فارم میں نہیں تھے اور ان کی تیاری نامکمل تھی۔

ذرائع کے مطابق پاکستان ایمیچر ایتھلیٹکس فیڈریشن اور پاکستان اسپورٹس بورڈ کی جانب سے تیاریوں کے دوران ان کی مناسب مدد نہیں کی گئی اور غیر ملکی کوچز یا ٹرینرز کے لیے فنڈز جاری نہیں کیے گئے۔

سابق اولمپک باکسنگ برانز میڈلسٹ حسین شاہ نے کہا کہ ارشد ندیم جیسے سیلف میڈ کھلاڑی کی مناسب تیاری نہ ہوسکنا اسپورٹس اسٹرکچر کی افسوسناک تصویر ہے۔

اس کے علاوہ کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کے لیے واحد برانز میڈل جیتنے والی خاتون باکسر فاطمہ زہرہ اور سینئر اسپورٹس صحافیوں نے بھی ملکی ایتھلیٹس کی تیاری، سہولیات اور فنڈز کی عدم دستیابی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US